Baaghi TV

خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، چاہے زبان خاموش رہ جائے۔
معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔ زبان کبھی مصلحت کی قید میں آ جاتی ہے، مگر آنکھیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ وہ ہر درد، ہر کرب اور ہر خاموشی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی خبر صرف سرخیوں یا خبروں میں نہیں، بلکہ انسانی آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف بولی اور شور ہے، مگر سچائی سننے والا کم ہے۔ ہنسی مذاق، مصروفیت اور سوشل میڈیا کے ہنگامے کے بیچ، وہ آنکھیں جو دن بھر کے دکھ کو سہہ کر بھی خاموش رہتی ہیں، سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی آنکھ میں خوف، والدین کی نگاہ میں فکر، مزدور کی تھکن اور بزرگ کی تنہائی،یہ سب خبریں ہیں جو کسی اخبار کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر معاشرت کی اصل تصویر یہی ہیں۔

دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوشی ہمیں غافل رکھتی ہے، لیکن کرب ہمارے وجود کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں دکھ عبادت اور بیداری کا ذریعہ ہے، سزا یا مایوسی نہیں۔ جو انسان دکھ کے باوجود خاموش رہتا ہے، وہ سب سے مضبوط اور باشعور ہوتا ہے۔ہمارا سماج اکثر آنکھوں کے غم کو کمزوری سمجھتا ہے اور اسے چھپانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ والدین جو دن بھر محنت کرتے ہیں، اکثر اپنی تھکن چھپاتے ہیں۔ بزرگ جو تنہائی میں بیٹھ کر زندگی کے لمحے یاد کرتے ہیں، ان کی آنکھیں ہر کہانی سناتی ہیں۔

یہ آنکھیں کبھی شکایت نہیں کرتیں، نہ کوئی رونا دھونا کرتی ہیں، مگر ہر سچائی کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید یہی خاموشی کا جادو ہے، جو لفظوں سے کہیں زیادہ اثر کرتی ہے۔قاری سے سوال یہ ہے کہ اگر خاموش آنکھیں اتنا کچھ کہہ سکتی ہیں، تو کیا ہم واقعی سننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال معاشرت کے لیے نہیں، بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ جو آنکھیں بول سکتی ہیں اور ہم نہیں سنتے، وہ سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے اندر سننے کی طاقت کو جگانا ہوگا، تاکہ یہ خاموش کرب، خاموش محبت، اور خاموش حقیقت ہمیں صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ سمجھنے والے بھی بنا سکے۔

More posts