Baaghi TV

کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

More posts