آج لاہور صرف ایک شہر نہیں بلکہ قدرت کا لکھا ہوا ایک انمول افسانہ لگ رہا تھا۔ صبح ہی سے بادلوں نے نیلی چھت پر سیاہ اور سرمئی مخمل بچھا رکھی تھی اور ننھی ننھی بوندیں یوں گِر رہی تھیں جیسے آسمان زمین کے کان میں کوئی پرانی محبت کی داستان سنا رہا ہو ، مال روڈ کے تاریخی درختوں کی شاخوں سے پانی کے قطرے موتی بن کر ٹپک رہے تھے اور ہوا میں بھیگے ہوئے پھولوں کی خوشبو رچی تھی جو ہر انسان کو نیچر کی محبت میں گرفتار کر لیتی ہے۔ اسی عاشقانہ اور رومان پرور شام تقریباً ساڑھے چھ بجے میں لاہور جم خانہ کلب کے دلکش اور تاریخی احاطے میں داخل ہوا جہاں میری ملاقات صحافت ، کالم نگاری اور الیکٹرانک میڈیا کی دنیا کے ایک بے باک ، معروف اور سحر انگیز نام مبشر لقمان صاحب سے طے تھی۔
جس ہال میں ہماری نشست تھی وہاں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے ہم کسی دوسری ہی دنیا میں آ گئے ہوں ، اونچی اونچی دیواریں ، کشادہ چھت ، دیواروں پر لٹکی نفیس اور شاندار پینٹنگز اور لکڑی کے بھاری پرانے دروازے ماحول کو ایک شاہانہ اور باوقار لمس دے رہے تھے۔ باہر بوندیں برستے ہوئے موسم کا سحر تھا اور اندر ہال کے مختلف گوشوں میں لکڑی کی گول میزوں کے گرد بریج کے کھلاڑی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں اتنی خاموشی اور گہرا سکون تھا کہ تاش کے 52 پتوں کی ہلکی سی سرسراہٹ بھی صاف سنائی دیتی تھی۔ مبشر لقمان صاحب کے بالکل ساتھ بیٹھ کر جب میں نے ان سے گفتگو کا آغاز کیا تو اسکرین پر نظر آنے والے تند و تیز اینکر کے برعکس ایک نہایت شائستہ ، وسیع المطالعہ ، عقل و دانش سے بھرپور اور نفیس انسان میرے سامنے تھا۔ ان کی باریک بین سوچ اور گفتگو کا جادو ایسا تھا کہ پہلی ہی نشست میں ان کے لیے دل میں ایک گہری اور بے ساختہ عزت پیدا ہو گئی۔
صحافت اور سیاسی نشیب و فراز پر تو ان کی گرفت قائم ہی ہے لیکن جب میں نے گفتگو کا رخ موڑ کر ان سے ان کی ایک اور اہم ذمہ داری یعنی پاکستان بریج فیڈریشن کی صدارت کے بارے میں پوچھا تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور لہجے میں سنجیدگی آ گئی۔ وہ مسکرائے آرام سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور بولے "نعیم صاحب ! ہمارے ہاں تاش کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں جوئے کی محفلیں ، وقت کی بربادی اور اندھیری بیٹھکیں گھومنے لگتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انہی 52 پتوں کا ایک کھیل ایسا بھی ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ذہنی کھیل یعنی ‘مائنڈ اسپورٹ’ مانا جاتا ہے؟” ان کا یہ جملہ کسی ڈرامائی موڑ کی طرح گفتگو کو ایک بالکل نئی سمت میں لے گیا۔
مبشر لقمان صاحب نے اپنے مخصوص اور دلفریب انداز میں بریج کی دنیا کے راز افشا کرنا شروع کیے ، خاص طور پر ڈپلیکیٹ بریج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی تکے یا قسمت کا کھیل نہیں بلکہ شدید ترین یادداشت ، منطق اور خاموش حکمتِ عملی کی جنگ ہے۔ جب کھلاڑی میز پر بیٹھتے ہیں تو قسمت کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ صرف انسانی ذہن فیصلے کرنے کی طاقت اور اپنے ساتھی کھلاڑی کو بغیر بولے سمجھنے کی صلاحیت کام آتی ہے۔ انہوں نے عالمی افق کا احوال کچھ اس طرح کھول کر رکھا جیسے کسی باکمال داستان گو نے تاریخ کی کوئی پرانی کتاب کھول دی ہو۔
"اگر ہم اس کی عالمی تاریخ دیکھیں،” انہوں نے اپنی شاندار اور بیباک روانی سے بتایا "تو ورلڈ بریج فیڈریشن (WBF) کی بنیاد 18 اگست 1958 کو ناروے کے شہر اوسلو میں یورپ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے نمائندوں نے رکھی تھی۔” مبشر صاحب نے وضاحت کی کہ یہ کوئی عارضی یا غیر رسمی باڈی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کے قوانین کے تحت ایک باقاعدہ غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا عالمی ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ‘Maison du Sport International’ میں واقع ہے جہاں دنیا کے تمام بڑے کھیلوں کے مراکز ہیں۔
باہر برستی بارش اور اندر ہال میں پھیلی سحر انگیز خاموشی کے درمیان ان کی باتیں سن کر وقت کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس فیڈریشن کا عالمی نعرہ ہے "Bridge for Peace” یعنی امن کے لیے بریج۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) سے تسلیم شدہ یہ تنظیم آج دنیا کے تقریباً 100 ممالک اور ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب باقاعدہ ممبران کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ دنیا کو آٹھ جغرافیائی زونز میں بانٹا گیا ہے جیسے یورپ ، شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ ، ایشیا اور مڈل ایسٹ وغیرہ۔ ہر دو سال بعد اس کی عالمی کانگریس ہوتی ہے اور ایک ایگزیکٹو کونسل اس کا تمام انتظام چلاتی ہے۔
"آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی نعیم صاحب ! ” مبشر لقمان صاحب نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا "کہ جیسے فٹ بال کا ورلڈ کپ ہوتا ہے بالکل اسی طرح بریج کی دنیا میں بھی عالمی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔” انہوں نے Bermuda Bowl ، خواتین کے لیے Venice Cup ، Senior Bowl اور Wuhan Cup جیسی عالمی چیمپئن شپس کا ذکر کیا جو ہر دو سال بعد ہوتی ہیں جبکہ ہر چار سال بعد ورلڈ بریج گیمز کا میلہ سجتا ہے جہاں دنیا کے بہترین ذہن ٹکراتے ہیں۔
میں ان کی باتیں سن کر ششدر تھا کہ جس کھیل کو ہمارے ہاں ایک عام اور بدنام مشغلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ عالمی سطح پر کس قدر منظم اور باوقار ہے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ آخر پاکستان اس عالمی منظر نامے میں کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں بھی اس کی کوئی جڑیں ہیں؟
جب میں نے یہ سوال مبشر لقمان صاحب کے سامنے رکھا تو ان کے چہرے پر گہری سوچ اور دکھ کا سایہ لہرایا۔ انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا "پاکستان میں بریج کی تاریخ ایک ایسی داستان ہے جس میں عروج کی شاہانہ بلندی بھی ہے اور زوال کا دردناک سفر بھی… ایک وقت تھا جب پاکستان نے دنیا کو اس کھیل میں حیران کر دیا تھا لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے اس کھیل کو سائے میں دھکیل دیا۔”
پاکستان میں اس کھیل کے سنہری دور ، اس کے متنازع ماضی اور کراچی کے ایک اسٹیڈیم کے اسٹینڈ کے نیچے منتقل ہونے والی اس دلچسپ کہانی کا کیا راز تھا؟ یہ سب مبشر لقمان صاحب کی زبانی معلوم ہوا… لیکن اس داستان کا احوال اگلی قسط میں۔
