وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گجرات یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی تعلیمی اور سماجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے بچوں کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور دماغ میں گالی ہے، اور گزشتہ 13 سال میں وہاں کے عوام کو ترقی کا شعور حاصل نہیں ہوا۔
مریم نواز نے کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ بچوں کو شعور دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ شعور کہاں نظر آتا ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ انتشار اور بدتمیزی خیبرپختونخوا کے بچوں کا نصیب نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بچے لاکھوں کی تعداد میں تکنیکی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں ہونہار بچوں کے باوجود غیر ترقی یافتہ حالات اور انتشار دیکھنے میں آ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خراب سڑکیں اور انتشار بچوں کا مقدر نہیں ہونا چاہیے اور پاکستانی ہونے کے ناتے انہیں اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے والدین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی کی طرف توجہ دیں اور انہیں ہتھیاروں اور بدتمیزی کی بجائے مثبت راستوں کی طرف رہنمائی کریں۔
مزید برآں، مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں قید افراد کے حوالے سے کہا کہ جو قیدی بیمار ہے، اسے علاج اور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کے کھانے پینے یا علاج میں کوئی کمی نہیں ہے اور ان کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سیاست میں اختلاف کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف ضرور کیا جائے، لیکن ذاتیات، گھراؤ، آگ لگانے اور انتشار کو سیاست میں نہ لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں پالیسی، خدمت اور کارکردگی پر تنقید کی جائے، نہ کہ ذاتیات اور انتشار کے ذریعے معاملات خراب کیے جائیں۔
خیبرپختونخوا کے بچے ہتھیاروں کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں، ترقی اور تعلیم سے لاعلم ہیں، مریم نواز
