Baaghi TV

لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ،مسیحاغائب

لنڈی کوتل(مہد شاہ شینواری کی رپورٹ)لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے مریضوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

لنڈی کوتل کے عوام چیخ رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں لیکن ان کی آواز شاید ان ایوانوں تک نہیں پہنچ رہی جہاں سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل جو پورے علاقے کے مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نہ ہونا اور عملے کی غیر سنجیدگی نے ہسپتال کو ایک بے یار و مددگار عمارت میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں مریض قسمت کے سہارے پڑے ہوتے ہیں۔

ہسپتال کے ایک سینئر اہلکار اور ضلع خیبر پیرامیڈیکس کے صدر ولی خان آفریدی نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی اور مستقل ایم ایس کی عدم تعیناتی کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایم ایس کے ذمے جمرود ہسپتال کی ذمہ داریاں بھی ہیں، جس کے باعث وہ لنڈی کوتل میں باقاعدگی سے موجود نہیں رہتے۔ ولی خان نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو مقامی مشران اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک اہم اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

فلاحی کارکن اختر علی شینواری نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند بااثر افراد ذاتی مفادات کی خاطر لنڈی کوتل کے عوام کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ روزانہ مریض ہسپتال کے در و دیوار سے ٹکرا کر واپس مایوس لوٹتے ہیں، کیونکہ ان کا علاج کرنے والا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔

ایک اور ہسپتال اہلکار نے کیجولٹی وارڈ میں عملے کی غفلت کی نشاندہی کی اور کہا کہ ماضی میں ایم ایس شیرانی کے دور میں ہسپتال میں نظم و ضبط قائم تھا، اور کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی تھی۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر شعبہ بے توجہی اور بدنظمی کا شکار ہے۔

جب ان مسائل پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر عدنان قادری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ان مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے رکھیں گے اور لنڈی کوتل کے عوام کو درپیش طبی مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف وعدے کافی ہیں؟
لنڈی کوتل کے عوام بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں فوری طور پر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے، مستقل ایم ایس مقرر کیا جائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی ہو۔ یہ کوئی سیاست یا مراعات کی بات نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق کا مسئلہ ہے ، علاج کا حق دیا جائے۔

یہ محض ایک ہسپتال نہیں، پورے قبائلی علاقے کی سانسیں اس کی صحت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ہسپتال کو نظر انداز کیا گیا تو یہ عوامی بے چینی کسی بڑے احتجاج کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال ہمارے بچوں کی جانوں کا مسئلہ ہے، اس پر خاموشی ناقابلِ برداشت ہے۔

More posts