Baaghi TV

پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اسرائیل کیلئے سیاسی ناکامی

iran

‎اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو اسرائیل کے لیے ایک بڑی سیاسی ناکامی قرار دے دیا ہے۔ ان کے بیان نے اسرائیلی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
‎یائر لاپیڈ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نہ صرف سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر ناکام رہے بلکہ وہ اپنے طے کردہ کسی ایک بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ لاپیڈ کے مطابق نیتن یاہو کے فیصلوں کی وجہ سے اسرائیل کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے درست کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اس نوعیت کا سخت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی موجودہ پالیسیوں پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر جنگ بندی جیسے حساس معاملے پر اندرونی اختلافات مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
‎دوسری جانب اس جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل ہو رہی ہے، جہاں مختلف ممالک اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، خاص طور پر اگر اپوزیشن کی تنقید شدت اختیار کرتی ہے۔

More posts