Baaghi TV

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔

More posts