میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے گاؤں شیر محمد خان کولچی میں واقع سرکاری پرائمری سکول گزشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد معصوم بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ سکول کی طویل بندش کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی حکومتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کی واضح مثال بن چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول زنگی خان کولچی گزشتہ ایک سال سے ویران اور لاوارث پڑا ہے۔ اسکول کی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کی حالت اس قدر خراب ہے کہ وہ بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
مقامی مکینوں کے مطابق یہ اسکول مسلسل 20 سال تک باقاعدگی سے فعال رہا، جہاں دو اساتذہ تعینات تھے اور سینکڑوں بچوں نے یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تاہم گزشتہ ایک سال سے نہ اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی سرگرمیاں، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔
احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا کر علامتی احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ بند اسکول کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور عمارت کی مرمت کروا کر تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع گھوٹکی کے منتخب عوامی نمائندے اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے بھی تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایک پوری نسل جہالت کی نذر ہو جائے گی، جس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ محکموں اور حکومتی نمائندوں پر عائد ہو گی۔
