ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست کردی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے فی الحال درخواست لینے سے معذرت کرلی۔
سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشنل کمیشن کی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جاری ہے، ایم کیو ایم نے کمیشن سے فریق بننے کی درخواست کردی۔جسٹس آغا فیصل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست لینے سے فی الحال معذرت کرلی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فی الحال معذرت چاہتے ہیں، سماعت جاری ہے، آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں۔وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ درخواست اس سے پہلے ہی دائر کردی گئی ہے۔ جس پر جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ درخواست آپ نے دی، فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا،
ایم کیوایم پاکستان نے گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کردہا،فاروق ستار نے کہا کہ سب سے پہلے ایم کیوایم نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم جس طرح تحقیقات ہورہی ہیں ہم مطمئن نہیں ہیں،
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی،ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے،انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں،ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں،ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے، ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔
ڈائریکٹر سول ڈیفنس کا گل پلازہ کمیشن تحقیقات کے دوران انکشاف، اپنے ادارے کی حالت زار بتادی،جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کیا ہر سال عمارتوں کی انسپکشن کرنی ہوتی ہے؟ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے کہا کہ سول ڈیفنس کے پاس عملے اور گاڑیوں کی کمی ہے، سالانہ انسپکشن نہیں کرسکتے ،
