Baaghi TV

ملکی سالمیت ،تحریر: شگفتہ خان

یہ وطن ہماری شان اور پہچان ہے۔ جس کو ہمارے آباؤاجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کی رہنمائی میں حاصل کیا۔ کتنی ہی قربانیاں دیں۔ جان، مال، عزت، کاروبار کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا تاکہ وہ نہ سہی ان کی آنے والی نسلوں کو اپنے وطن میں آزادی سے جینے کا حق مل سکے۔ انھوں نے یہ ملک انگریزوں اور ہندوؤں سے آزاد کروا کر دیا۔ ملکی سالمیت کی ذمہ داری اب اگلی نسل پہ تھی۔ ملکی سالمیت کا مطلب ہے اس ملک کا آزاد، متحد اور مضبوط رہنا ہے۔ ملکی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی خودمختاری، اندرونی و بیرونی سلامتی اور سرحدوں کا تحفظ ہے۔ کسی بھی ملک کے تحفظ اور امن و امان کی ذمہ داری سرحدی علاقوں میں تعینات افواج پر تو لاگو ہے۔ اس ملک کے شہریوں کا بھی فرض ہے کہ قانون کا احترام کریں۔ کسی بھی ملک کی سالمیت کا انحصار وہاں کی عوام پر ہے۔ ملک میں امن وامان ہو۔ عدل و انصاف کا قانون رائج ہو۔ مساوات کو زندگی کے ہر شعبہ میں رائج کیا ہو۔ سیاسی استحکام ہو تو اس ملک پہ دشمن بھی ٹیڑھی نظر ڈالنے سے پہلے سوچتا ہے۔

افسوس صد افسوس کہ ہماری ملکی سالمیت داو پہ لگی ہوئی ہے۔ آج کل کے حالات اس کے مصداق ہو رہے ہیں کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے” دشمن گھر میں گھس آیا ہے۔ انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے تباہی پھیلا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تفرقہ میں ڈال کر مذہب سے دور کر رہا ہے۔ ملکی سالمیت خطرے میں ہے لیکن عوام ہوش میں نہیں آرہی۔ اس ملک کی سلامتی کےلئے ضروری ہے کہ اب نوجوان نسل میدان میں اترے۔
سالوں پہلے اسی قوم کے جوانوں کےلئے علامہ محمد اقبال نے کہا اور کیا خوب کہا کہ

"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”
اب نوجوان نسل ملک کی باگ ڈور سنبھالیں اور ملکی سالمیت کی ناؤ جو بھنور میں پھنس چکی ہے۔ اس کو نکال کر وطن کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر آئیں۔

More posts