قلمی نام: الـــلـــہ کی لاڈلـــی
میرا نام نیہا علی ہے اور میرا تعلق پنجاب کے ایک نسبتاً چھوٹے مگر تہذیبی و ثقافتی رنگ سے معمور شہر ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ اردو ادب سے میری وابستگی کو تقریباً چار برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ میرے لیے ادب محض الفاظ کی ترتیب، جذبات کی ترجمانی یا وقت گزاری کا وسیلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری و روحانی سفر ہے جس میں انسان اپنے باطن کی آواز سنتا، اپنے گردوپیش کو نئے زاویوں سے دیکھتا اور معاشرے کے دکھ،خوشی، محرومی، امید اور خواب کو لفظوں کا جامہ پہناتا ہے۔
مجھے بچپن ہی سے لکھنے اور مطالعے سے خاص شغف رہا۔ الفاظ ہمیشہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتے رہے اور دل میں اٹھنے والے احساسات کو قرطاس پر منتقل کرنے کی خواہش وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ تاہم باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز 2022ء میں میرے پہلے افسانے "کرن کی روشنی” سے ہوا۔ یہ میرے لیے محض ایک تحریر نہیں بلکہ میرے ادبی سفر کی پہلی باقاعدہ دستک تھی۔ اس تحریر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر موجود احساسات اور مشاہدات کو ایک سمت دی جا سکتی ہے اور قلم کو محض اظہار نہیں بلکہ مقصد بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ابتدائی دور میں مجھے ایسا موزوں ادبی پلیٹ فارم میسر نہ آ سکا جہاں میں تسلسل کے ساتھ اپنی تحریریں پیش کر سکتی۔ راستے میں کئی دشواریاں آئیں، مواقع محدود رہے اور بعض اوقات حوصلہ شکن حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر میں نے قلم کا دامن نہیں چھوڑا۔ میرا یقین تھا کہ اگر نیت میں اخلاص، جستجو میں تسلسل اور مقصد میں پختگی ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔
2022ء ہی میں میں نے تقریباً پندرہ افسانے تحریر کیے۔ یہ مرحلہ میرے لیے تجربات، سیکھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا زمانہ تھا۔ ہر افسانے کے ساتھ میری سوچ میں وسعت، مشاہدے میں گہرائی اور اظہار میں پختگی پیدا ہوتی گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ افسانہ صرف ایک قصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کا آئینہ ہے جنہیں عام نگاہ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔
مسلسل محنت، جستجو اور ادبی سرگرمیوں میں شمولیت کے بعد مجھے محترمہ ناتشہ سیٹھی کے ادبی پلیٹ فارم "فخرِ وکالت” سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔ یہ میرے ادبی سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس پلیٹ فارم پر مجھے نہ صرف اپنی تحریریں پیش کرنے کا موقع ملا بلکہ تقریباً ایک برس تک بطور ایڈمن اپنی خدمات انجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس تجربے نے میری شخصیت میں انتظامی بصیرت پیدا کی اور مجھے ادبی سرگرمیوں کے نظم و نسق، قلم کاروں سے رابطے اور تخلیقی ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
اس کے بعد میرے ادبی سفر کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر لکھنے کے مواقع ملے اور میری تحریریں متعدد ادبی مجموعوں، کتب اور انتخاب کا حصہ بنتی رہیں۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میری بعض تحریریں بھارت سے شائع ہونے والی کتابوں میں بھی شامل ہوئیں۔ ایک نسبتاً چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لکھاری کے لیے یہ تجربہ یقیناً حوصلہ افزا بھی تھا اور یادگار بھی، اس نے میرے اس یقین کو مزید مستحکم کیا کہ قلم کے لیے جغرافیائی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں- اگر لفظ میں تاثیر ہو تو وہ سرحدوں سے آگے بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
میری ادبی دلچسپی کا محور صرف افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہا۔ میں نے مختلف اصناف ادب میں اظہار خیال کی کوشش کی اور نظم، غزل، نثری نظم، کالم، افسانچہ اور دیگر تخلیقی اصناف کے ذریعے اپنے احساسات اور مشاہدات کو لفظوں میں ڈھالنے کی سعی کی میرا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ میری تحریر محض خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں کوئی فکر، کوئی احساس، کوئی سبق یا زندگی کی کوئی سچی جھلک ضرور موجود ہو۔
2025ء میں میں نے اپنی کتاب "خوابوں کی حقیقت” پر باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہ منصوبہ میرے لیے محض ایک کتاب کی تیاری نہیں بلکہ میرے ادبی خوابوں کو ایک مستقل صورت دینے کی کوشش ہے۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی منصوبوں، مجموعوں اور کتابوں میں لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ہر نئے منصوبے نے مجھے اپنے قلم کو مزید سنوارنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور اظہار کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع دیا۔
میری تحریروں میں انسانی جذبات، رشتوں کی نزاکت، عورت کے احساسات، معاشرتی رویے، والدین کی محبت، زندگی کی تلخ حقیقتیں، امید، صبر، خود شناسی اور روحانی وابستگی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ قاری میری تحریر پڑھ کر صرف الفاظ سے نہ گزرے بلکہ کچھ دیر ٹھہرے، سوچے اور اپنے اندر کسی احساس کو جاگتا ہوا محسوس کرے۔
میرے نزدیک ایک اچھا قلم کار وہ نہیں جو صرف مشکل الفاظ لکھنے پر قادر ہو، بلکہ وہ ہے جو سادہ بات کو بھی اس انداز میں بیان کر سکے کہ وہ دل میں اتر جائے۔ ادب میرے نزدیک معاشرے کی اصلاح، احساس کی بیداری اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ میں حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ مقصدیت، شائستگی اور فکری پختگی بھی موجود ہو۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ ادبی دنیا میں مقام حاصل کرنا کسی مختصر راستے کا نام نہیں۔ یہاں مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، محنت، تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ اور اپنے اسلوب کو بہتر بنانے کی جستجو درکار ہوتی ہے۔ میں آج بھی خود کو ایک طالبِ علم سمجھتی ہوں اور ہر نئی تحریر کے ساتھ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔میرا قلم میرے لیے صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کا ترجمان ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ ان لوگوں کی آواز بنیں جن کے احساسات اکثر خاموش رہ جاتے ہیں، ان دلوں کو حوصلہ دیں جو حالات سے شکستہ ہو چکے ہیں اور ان آنکھوں میں امید جگائیں جو زندگی کی گرد میں اپنے خواب بھول بیٹھی ہیں۔محدود وسائل، نسبتاً چھوٹے شہر اور ناموافق حالات کے باوجود میں نے اپنے خوابوں کو کبھی محدود نہیں ہونے دیا۔ میرا یقین ہے کہ بلند منزلوں کے لیے وسیع راستوں سے زیادہ بلند حوصلے درکار ہوتے ہیں۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا، اسے اپنی منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ سمجھتی ہوں۔آج بھی میری خواہش ہے کہ میرا قلم اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر شناخت قائم کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریریں وقت کے ساتھ محض محفوظ نہ رہیں بلکہ پڑھی جائیں، محسوس کی جائیں اور یاد رکھی جائیں۔میری منزل ابھی باقی ہے، میرے خواب ابھی زندہ ہیں اور میرا قلم ابھی بہت کچھ لکھنا چاہتا ہے۔
میں نیہا علی ہوں-
قلمی نام "اللہ کی لاڈلی” کے ساتھ،اور میری سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ میں لفظوں سے محبت کرتی ہوں،
اور لفظوں کے ذریعے دلوں تک پہنچنے کا خواب دیکھتی ہوں۔
