Baaghi TV

میرا تعارف ،شمسہ رانی

ہر انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے ۔جسے دیکھنے کے لیے انکھ نہیں احساس چاہیے۔ کچھ لوگ اس دنیا کو خاموشی سے جیتے ہیں ۔کچھ اسے یادوں میں محفوظ کر لیتے ہیں،اور کچھ کے ہاتھ میں قلم آ جائے تو یہی اندرونی دنیا لفظوں کا لباس پہن لیتی ہے ۔میری کہانی بھی شاید اسی لمحے سے شروع ہوئی جب میں نے باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے اندر کی آواز کو سننا شروع کیا۔

بچپن میں جب میرے ہم عمر کھیل کے میدانوں میں اپنی خوشیاں تلاش کرتے تھے ۔میری دلچسپی کتابوں کے صفحات پہ چھپی ہوئی دنیا سے تھی ۔کتابیں پڑھنا، لائبریری جانا ،مختلف موضوعات کو کھوجنا، اور لفظوں کے ساتھ وقت گزارنا میرے لیے محض مشغلہ نہیں تھا ۔شاید وہ میرے آنے والے سفر کی پہلی آہٹ تھی۔پھر زندگی نے مجھے بہت کم عمری میں وہ سبق پڑھائے جنہیں سمجھتے میں بعض اوقات انسان کو پوری عمر لگ جاتی ہے۔ والد کا انتقال میرے بچپن کی بے فکری کو اپنے ساتھ لے گیا۔حالات نے مجھے وقت سے پہلے زندگی کی سنجیدگی سے اشنا کیا ذمہ داریوں کا احساس بڑھتا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ زندگی صرف خوشیوں، خوابوں اور خواہشوں کا نام نہیں ،اس کے دامن میں جدائی ،محرومی، بے شمار جنگیں بھی پوشیدہ ہیں شاید انہی تجربات نے میرے اندر کے لفظوں کو جگایا۔

جو کچھ دل میں جمع ہوتا گیا وہ تحریر بنتا گیا۔ میں نے کاغذ کو اپنا ہمراز بنایا اور قلم کو اپنی آواز ۔ا بتدا میں یہ صرف شوق تھا ۔پھر عادت بنا ،اور رفتہ رفتہ میری شناخت کا حصہ بن گیا میں نے مختلف اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔ کالم نگاری کے ذریعے معاشرے کے ان پہلو وں کو موضوع بنایا جو اکثر ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی ہماری توجہ سے او جھل رہتے ہیں۔

وقت کے ساتھ لفظوں سے میرا رشتہ وسیع ہوتا گیا کالم کے بعد کہانی نے مجھے اپنی طرف بلایا ،افسانے اور کہانیاں مختلف رسائل تک پہنچی ۔پھر ناول نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ۔کھلی آنکھوں کا خواب اور محبت یوں بھی ہوتی ہے میرے قلم سے نکلنے والے دو ناول ہیں جو اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہیں۔
اور پھر شاعری نے میرے اندر وہ دروازہ کھولا ۔جہاں الفاظ دلیل سے زیادہ احساس بن جاتے ہیں۔

شعر میرے لیے محض قافیہ اور ردیف کا نام نہیں ،یہ دل کی اس کیفیت کا اظہار ہے ۔جسے نثر کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کر پاتی۔ محبت ہو، جدائی ہو ،رشتوں کی خوشبو، معاشرے کے زخم ہوں، وطن کی مٹی ہو یا وقت کی بے رحم گردش۔ ہر احساس نے کبھی نہ کبھی میرے قلم سے اپنا راستہ مانگا ہے۔

اس سفر کی ایک اہم منزل میری شعری کتاب (سائے جو ٹھہر گئے ) ہے، جو جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔اس کتاب میں میرے لفظوں کے ساتھ میری زندگی کے کئی عکس بھی چلتے ہیں۔ کچھ سائے ان رشتوں کے ہیں جنہوں نے مجھے محبت کا مفہوم سمجھایا ۔کچھ ان لمحوں کے جو گزر کر بھی دل میں ٹھہر گئے ۔کچھ ان سوالوں کے جو معاشرے سے ہیں ،اور کچھ ان دعاؤں کے جو انسان اپنے رب کے حضور خاموشی سے رکھ دیتا ہے۔میں نے زندگی کے ہر رنگ کو اپنے انداز میں محسوس کیا ہے۔ شاید اسی لیے میرے لیے لکھنا محض تخلیق نہیں، ایک داخلی سفر ہے۔ اپنے اپ تک پہنچنے کا سفر اور ان احساسات کو اواز دینے کا سفر ،جنہیں اکثر لوگ دل میں دفن کر دیتے ہیں۔

آج جب میں اپنے سفر کے صفحات پلٹتی ہوں تو بچپن کی وہ کتابیں، لائبریری کی خاموش فضا، والد کی جدائی ، وقت سے پہلے آے والی ذمہ داریاں، اخبارات کے صفحات ،کہانیوں کے کردار ،اور شاعری کے مصرعے سب ایک ہی داستان کے مختلف باب دکھائی دیتے ہیں
تب احساس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں لفظ محض لکھے نہیں گئے وہ جیے گئے ہیں۔
آج یہی لفظ میری پہچان بن چکے ہیں ۔میں قومی سطح کے مختلف اخبارات میں بطور کالم نگار اپنے قلم کی ذمہ داری نبھا رہی ہوں ۔ اور معاشرے کے ان موضوعات پر لکھ رہی ہوں جو محض خبر نہیں۔ احساس اور فکر کا تقاضا کر تے ہیں ۔معاشرتی رویے، رشتوں کی نزاکت، خواتین کے مسائل ،بچوں کا تحفظ، بدلتا ہوا معاشرہ،اور وقت کے اہم سوالات یہ سب میرے قلم کے اہم موضوعات رہے ہیں۔میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر صرف پڑھی نہ جائے بلکہ قاری کو ایک لمحے کے لیے ٹھہرنے ،سوچنے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرے۔ میرے لیے قلم اعزاز سے بڑھ کر ایک امانت ہے اور اس امانت کو دیانت، احساس اور سچائی کے ساتھ نبھانا ہی میرے ادبی سفر کی اصل روح ہے۔
میں شاعرہ، مصنفہ اور کالم نگار شمسہ رانی ہوں
میں نے زندگی کے سائے دیکھے انہیں محسوس کیا اور پھر انہیں لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔
سائےجو ٹھہر گئے شاید انہی ٹھہرے ہوئے لمحوں کی اواز ہے۔
اور ممکن ہے اس کتاب کے کسی صفحے پر اپ کو اپنا کوئی گزرا ہوا لمحہ بھی مل جائے۔

More posts