وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔
یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔
شعر
مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی
