Baaghi TV

نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

میجر (ر) ہارون رشید
دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، بازدارانہ حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں،اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

جیفری ایپسٹین سے منسلک حال ہی میں جاری ہونے والے دستاویزات میں ایسی خط و کتابت سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلافِ کعبہ (کسوہ)—جو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانپنے والا مقدس کپڑا ہے—کے تین ٹکڑے بالواسطہ ذرائع کے ذریعے اس تک منتقل کیے گئے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین اخلاقی اور تحویلی (custodial) سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق، اس منتقلی میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی کا کردار شامل تھا، جو دیگر واسطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ ترسیلات کو بین الاقوامی طور پر منتقل کیا گیا اور کسٹمز دستاویزات میں انہیں غیر مذہبی اشیاء کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ تاہم، یہ دستاویزات یہ واضح نہیں کرتیں کہ ان مقدس اشیاء کی حوالگی کی اجازت کس نے دی یا انہیں کسی ایسے نجی فرد کو کیوں بھیجا گیا جس کی کوئی معروف مذہبی یا ادارہ جاتی حیثیت نہیں تھی۔

غلافِ کعبہ کی اہمیت کیوں ہے
غلافِ کعبہ کوئی عام یادگاری شے نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ اسلام کے مقدس ترین مقام کی علامت ہے۔ طواف کے دوران لاکھوں عقیدت مند خانۂ کعبہ کو چھوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی امیدیں اللہ کے حضور رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے غلافِ کعبہ کے کسی بھی حصے کی ترسیل یا تقسیم کے لیے سخت اخلاقی اور تحویلی ضوابط کی توقع کی جاتی ہے۔دستاویزات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں ایسا کپڑا بھی شامل تھا جو حج یا عمرہ کے موسموں میں استعمال ہوا تھا—اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ تشویش مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایسی مقدس علامات کو ان کے درست تحفظ اور نگرانی سے کیسے ہٹایا گیا۔

اسلام، جادو، اور مسلمانوں کی تشویش کی بنیاد
اسلام سحر (جادو)، توہمات اور باطنی یا شیطانی اعمال کی واضح اور قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔
قرآن و سنت مومنین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ حفاظت اور مدد صرف اللہ سے طلب کریں اور کسی بھی ایسی قوت کے تصور کو رد کریں جو اللہ کے سوا خود مختار ہو۔ اس تناظر میں، اسلام کسی بھی شے—بشمول غلافِ کعبہ—کو ذاتی یا خود مختار ماورائی طاقت کا حامل نہیں مانتا۔تاہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دشمن عناصر کبھی کبھار روحانی، نفسیاتی یا علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ایسی کوششیں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی حقیقی اثر نہیں رکھتیں۔ یہ تصور—چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے—اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقدس اسلامی علامات کا اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد کے ساتھ جڑ جانا شدید جذباتی اور دینی اضطراب کیوں پیدا کرتا ہے۔

قرآنِ مجید جھوٹی قوتوں اور گمراہی کے خلاف خبردار کرتا ہے
کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟
اللہ کو، جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے
(سورۃ الصافات 37:125–126)
اہلِ ایمان کے لیے یہ آیات اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہیں کہ فساد، فریب اور اخلاقی زوال بالآخر تباہی ہی پر منتج ہوتے ہیں، چاہے ان کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔

اصل سوال
جاری کردہ دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ غلافِ کعبہ کے ان ٹکڑوں کو کسی رسم، جادو یا باطنی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقدس اسلامی اشیاء ایک ایسے فرد تک پہنچیں جس کی زندگی استحصال، بدعنوانی اور اخلاقی انہدام کی علامت تھی—اور یہی حقیقت بذاتِ خود گہری جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ کسی ماورائی نیت پر قیاس آرائی نہیں، بلکہ احتساب ہے:
ان مقدس اشیاء کو کس نے جاری کیا؟
کس اختیار کے تحت؟
اور تحویلی و حفاظتی نظام کیسے ناکام ہوا؟
مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ مقدس علامات کو کبھی تجارتی شے نہیں بننا چاہیے، نہ ہی ان کا غلط استعمال یا اخلاقی تناظر سے اخراج ہونا چاہیے—خواہ انہیں طلب کرنے والا کوئی بھی ہو۔

More posts