پاکستان میں پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے اور ملک اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کا 14واں ملک بن گیا ہے جو شدید پانی کی کمی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق فی کس پانی کی سالانہ دستیابی اب 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے، جو عالمی معیار کے مطابق “واٹر اسکارس” یعنی شدید قلت کی سطح ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی بلکہ زراعت اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی، پانی کے ضیاع، ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلیاں اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ ملک میں بڑے ڈیمز کی کمی اور پانی کے مؤثر استعمال کی عدم منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور معاشی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کے بہتر انتظام، نئے ذخائر کی تعمیر اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ پانی کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ اس قیمتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر ابھی سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ بحران ایک بڑے قومی مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
پانی کی شدید قلت، پاکستان خطرناک حد میں داخل
