اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگیوں اور روزگار کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے، جبکہ پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کا بنیادی مقصد عالمی نظام میں استحکام اور تنازعات کی روک تھام ہے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان
