پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی، علاقائی استحکام اور معاشی بحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی چیلنجز اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل نہ صرف ریاستی رٹ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کے تشخص اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قومی پالیسیوں پر سنجیدگی، تسلسل اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کیا جائے۔
سب سے پہلے، نیشنل ایکشن پلان کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع فریم ورک سمجھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس پر عمل درآمد کی رفتار یکساں نہیں رہی۔ اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ مطلوب ہے تو تمام صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی فعالیت، کالعدم تنظیموں کی نگرانی، نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور مدارس و دیگر اداروں کی مؤثر رجسٹریشن جیسے اقدامات پر مکمل عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا ہے۔ دنیا کے ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر کوئی شخص قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ عمل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور باوقار واپسی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اجتماعی سزا یا نسلی تعصب کے تاثر سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانون پر عمل درآمد۔
تیسرا پہلو سرحدی نگرانی کا ہے۔ اگر یہ اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ کچھ افراد واپسی کے بعد دوبارہ غیر قانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں، تو یہ سرحدی مینجمنٹ کے نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاک-افغان سرحد ایک طویل اور حساس سرحد ہے جس پر مؤثر نگرانی، بائیومیٹرک نظام، جدید ٹیکنالوجی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ محض وقتی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل، ٹیکنالوجی پر مبنی بارڈر مینجمنٹ سسٹم ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔
امن و امان کی صورتحال براہ راست معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے وہاں کی سکیورٹی، پالیسیوں کے تسلسل اور قانونی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کو اگر عالمی معیشت میں مسابقتی کردار ادا کرنا ہے تو اسے داخلی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ چین، خلیجی ممالک، یورپ یا دیگر خطوں سے سرمایہ کاری اسی وقت آئے گی جب سرمایہ کار خود کو محفوظ اور پالیسی ماحول کو پیشگوئی کے قابل محسوس کریں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی آپریشنز سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے سماجی ہم آہنگی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی بھی ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط، منصفانہ اور جوابدہ ریاستی ڈھانچہ ہی شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔
آج پاکستان کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، مربوط اور قانون پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، سرحدی نظم و نسق کی مضبوطی، قانون کی بلاامتیاز عمل داری اور انسانی حقوق کا احترام ، یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔اگر ریاست اپنے فیصلوں میں تسلسل، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے تو نہ صرف دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بھی مستحکم ہو گا، اور یہی مضبوط امن و استحکام مستقبل کی معاشی ترقی کا ضامن بنے گا۔
