پاکستان کو حالیہ مہینوں میں امریکہ اور یورپ میں جو سفارتی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ایک نسبتاً مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں مفادات مستقل اور دوستیاں عارضی ہوتی ہیں، وہاں کسی ملک کی اہمیت اس کے رویّے، استحکام اور پیغام کی یکسانیت سے متعین کی جاتی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم، نے علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور اسٹرٹیجک توازن کے حوالے سے جو واضح اور ذمہ دار مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں سنجیدگی کو تقویت دی ہے۔ مغرب کے لیے خطے میں استحکام ایک کلیدی ترجیح ہے، اور پاکستان کا اس ضمن میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آنا ایک اہم سفارتی اثاثہ ہے۔ ساتھ ہی وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کی ٹیم نے حالیہ عرصے میں روایتی جوشِ خطابت کے بجائے خاموش، محتاط اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ کثیرالجہتی فورمز پر متوازن بیانیہ، غیر ضروری تنازعات سے اجتناب اور عالمی طاقتوں کے ساتھ عملی مکالمہ یہ تمام عوامل پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ریاستی سطح پر پیغام کا تضاد کم نظر آ رہا ہے۔
عسکری اور سفارتی بیانیے میں ہم آہنگی وہ عنصر ہے جسے عالمی طاقتیں نہایت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو دوبارہ عالمی میز پر قابلِ گفتگو فریق بنانے میں مدد دے رہی ہے۔سفارتی کامیابی اسی وقت دیرپا ثابت ہوگی جب اسے معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی میں تبدیل کیا جائے۔آخرکار پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ وقتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس توجہ کو قومی مفاد میں ڈھالتے ہوئے خود کو ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور باوقار ریاست کے طور پر منوائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وقتی پذیرائی کو مستقل احترام میں بدل سکتا ہے۔
