گوگل نے آج اسلام آباد میں "آگے بڑھو: گوگل فار پاکستان” کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دینے اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گوگل کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر، گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے اور ڈیجیٹل برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اپنی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق، 2023ء میں گوگل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مصنوعات اور خدمات نے پاکستانی کاروباری اداروں اور گھریلو صارفین کو 3.9 کھرب روپے کے معاشی فوائد فراہم کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوگل سرچ، ایڈز، ایڈسینس، کلاؤڈ، اور یوٹیوب نے کاروباری اداروں کے لیے 2.6 کھرب روپے کی معاشی سرگرمی پیدا کی، جس میں 249 ارب روپے غیر ملکی مارکیٹس سے حاصل ہوئے۔ اسی طرح، گوگل کی خدمات نے گھریلو صارفین کو 1.3 کھرب روپے کے فوائد فراہم کیے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سالانہ ڈیجیٹل برآمدات کی قدر میں سن 2030ء تک 1.8 کھرب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کو دور کر کے ملک کی سالانہ جی ڈی پی میں 2.8 ٹریلین روپے کا اضافہ ممکن ہے۔وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے گوگل کے کردار کو سراہا اور کہا، "ہماری معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیجیٹل برآمدات کی بہت زیادہ صلاحیت ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان ڈیجیٹل دور میں اپنی پوری صلاحیت تک پہنچ سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ گوگل نے گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لائی ہے، اور اس کے اقدامات کا ملک کی ڈیجیٹل دنیا میں بڑا اثر ہے۔
گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر، فرحان ایس قریشی نے کہا کہ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس اور گوگل ڈیویلپر پروگرامز جیسے اقدامات کے ذریعے ہنرمندی کی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی نوجوان اور متحرک افرادی قوت کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "آگے بڑھو” پروگرام کے تحت، گوگل 2023ء میں 9 لاکھ 60 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔گوگل نے 2023ء میں خواتین اور طالب علموں کو 44,500 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ (جی سی سی) اسکالرشپس فراہم کیں، اور 2024ء میں 45,000 اضافی اسکالرشپس فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل نے مصنوعی ذہانت سے متعلقہ تربیت کے پروگرام شروع کیے ہیں جو پاکستانی نوجوانوں کو اس ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
گوگل نے "سیف رہو” پروگرام کے تحت پاکستانی نوجوانوں، خواتین، اور کمیونٹیز کو انٹرنیٹ سیفٹی کے علم اور ٹولز کے ذریعے بااختیار بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، گوگل نے ٹیک ویلی کے ساتھ شراکت داری کی ہے جس کے تحت مقامی سطح پر 500,000 کروم بکس تیار کیے جائیں گے۔رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ گوگل کے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ گوگل کا "فیوچر فارورڈ پاکستان” مشن ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کو ممکن بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔گوگل کے اس عزم کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ، نئی ملازمتوں کے مواقع کی تخلیق، اور اقتصادی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے مستحکم کرنا ہے، گوگل
