جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیام کردہ غزہ بورڈ آف پیس پر تنقید کی اور کہا کہ بورڈ میں فلسطینی نمائندگان شامل نہیں ہیں، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو شامل ہیں۔ ان کے بقول، "یہ کیسا امن بورڈ ہے جس میں فساد کی جڑ نیتن یاہو کو شامل کر لیا گیا۔”
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کو حماس اور فلسطینی عوام کے موقف کو مدنظر رکھنا چاہیے اور اس معاملے میں کسی بھی مہم میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عراق، افغانستان اور لیبیا میں بھی امن کے نام پر آیا تھا، لیکن ان ممالک کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ دیا گیا، اور غزہ کے ساتھ بھی یہی خطرہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا، جبکہ انڈونیشیا، اردن اور قطر بھی اس میں شامل ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔ بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کے لیے عبوری انتظامی نظام کے طور پر کام کرنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی عوام کی انسانی ضروریات پوری کرنے میں تعاون جاری رکھے گا اور امن بورڈ کے رکن کے طور پر تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم میں شامل نہیں ہونا شاہیے، فضل الرحمان
