Baaghi TV

پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

پاکستان کی موجودہ سیاست ایک بار پھر “پسِ پردہ جوڑ توڑ” کے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے، جہاں حتمی فیصلوں سے زیادہ افواہیں اور ابتدائی رابطے گردش کر رہے ہیں۔

اس وقت چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اور ممکنہ طور پر گورنر بنائے جا سکتے ہیں ابھی تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی ہمیشہ ایک لچکدار اور موقع کے مطابق فیصلے کرنے والے سیاستدان رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسی قیاس آرائیاں نئی بات نہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں ان خبروں کو زیادہ تر سیاسی فضا کا حصہ اور ممکنہ مستقبل کی صف بندیوں کا اشارہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ کوئی حتمی پیش رفت۔

اگر فرض کیا جائے کہ یہ خبریں درست ثابت ہو جاتی ہیں اور وہ واقعی پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کا سب سے بڑا اثر پنجاب کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ گجرات اور وسطی پنجاب میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے، اور پیپلز پارٹی کو ایک ایسا چہرہ مل سکتا ہے جو اسے پنجاب میں دوبارہ جگہ بنانے میں مدد دے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رجحان ایک بار پھر اس بات کو مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریات سے زیادہ “الیکٹیبلز” یعنی جیتنے والے امیدوار اہم ہوتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، تو فی الحال اس کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے، خصوصاً پنجاب میں جہاں مریم نواز شریف وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف حکومتی اختیارات ہیں بلکہ انتظامی مشینری اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ اس لیے صرف ایک یا دو بڑی سیاسی شخصیات کی ممکنہ وفاداری کی تبدیلی سے فوری طور پر (ن) لیگ کی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ البتہ اگر بڑے پیمانے پر الیکٹیبلز کا رخ بدلتا ہے تو آئندہ انتخابات میں اس کے اثرات ضرور ظاہر ہو سکتے ہیں۔

مریم نواز شریف کے مستقبل کو اگر دیکھا جائے تو وہ اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انہیں پہلی بار براہِ راست گورننس کا تجربہ مل رہا ہے، جو ان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر وہ عوامی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور گورننس کے معاملات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتی ہیں تو ان کی سیاسی پوزیشن نہ صرف پنجاب بلکہ قومی سطح پر بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتری تو سیاسی مخالفین کے لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کی سیاست کسی بڑے فوری بدلاؤ کے بجائے ایک تدریجی صف بندی کے مرحلے میں ہے۔ پرویز الہٰی سے متعلق خبریں ابھی قیاس آرائی کے دائرے میں ہیں، اور جب تک کوئی واضح اور باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، انہیں حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی اتحادوں، وفاداریوں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو بالآخر آئندہ انتخابات کی سمت کا تعین کریں گی۔

More posts