پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں
کشیدگی کے دہکتے میدان میں پاکستان کی حکمت و تدبر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے بیچ امن کا ابھرتا ہوا ثالث
تجزیہ شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے—ایک ایسا کردار جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور سنجیدہ فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ترکی، سعودیہ اورمصر جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پاکستان کی کوششوں کو ایک وسیع تر سفارتی فریم ورک فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی متوازن خارجہ پالیسی ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ گہرے علاقائی اور ثقافتی روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات اسے دونوں اطراف کے لیے قابلِ قبول رابطہ کار بناتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو اس پیچیدہ بحران میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ تاہم، سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز کم نہیں۔ فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی، متضاد اسٹریٹیجک مفادات، اور زمینی سطح پر جاری عسکری کارروائیاں کسی بھی فوری پیش رفت کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایران کی جانب سے مغربی تجاویز پر تحفظات، اسرائیل کی مسلسل فوجی حکمتِ عملی، اور امریکہ کے علاقائی مفادات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اگرچہ قلیل مدت میں مکمل اور پائیدار جنگ بندی کے امکانات محدود ہیں، تاہم پاکستان اور اس کے شراکت دار ممالک کی کوششیں ایک عارضی سیزفائر یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بالآخر، اس بحران کا حل انہی بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جو براہِ راست اس میں ملوث ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں اکثر درمیانی قوتیں ہی مکالمے کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں۔
