پاکستان میں پالیسی ریٹ دو سال کے اندر ریکارڈ 22 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد سے نیچے آ گیا ہے، جسے معیشت کے لیے مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کی سنجیدہ معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی تازہ ٹی بل نیلامی میں حکومتی قرض کے لیے ہونے والی بولیوں پر شرحِ منافع 9.89 فیصد رہی، جو گزشتہ نیلامی کے مقابلے میں 0.30 فیصد کم ہے۔ تین ماہ کے ٹی بل پر شرحِ منافع 9.89 فیصد رہی، جس میں 0.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح چھ ماہ کے ٹی بل پر شرحِ منافع 9.94 فیصد رہی، جس میں بھی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں یہ کمی معاشی استحکام کے لیے اہم ہے اور سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے ملک میں کاروباری اعتماد بڑھنے اور مالیاتی مارکیٹ میں مثبت رجحانات دیکھنے کو ملیں گے۔
پاکستان میں شرحِ سود سنگل ڈیجٹ میں، پالیسی ریٹ 10 فیصد سے نیچے پہنچ گیا
