سینئر صحافیوں، مرکزی مسلم لیگ کے قائدین کی گفتگو،خبر نگاری، اے آئی، مطالعہ سازی ،ڈیجیٹل میڈیا پر لیکچر
مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام میڈیا ونٹرسکول مکمل، لاہور میں دو روزہ میڈیا ورکشاپ میں سینئر صحافیوں، مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے خطاب کیا، میڈیا ورکشاپ میں ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی میڈیا کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی، شرکا کو خبر نگاری ، اے آئی کا مثبت استعمال، لکھنے کے لئے مطالعہ کتنا ضروری، ڈیجیٹل میڈیا میں کیسے آگے بڑھیں،ویڈیو ایڈیٹنگ سمیت دیگر موضوعات پر لیکچر دیئے گئے، ورکشاپ سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف،سینئر صحافی دلاور چوہدری، شاہد نذیر چوہدری،محمد عثمان ،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ،جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لاہور قیصر شریف، سلمان جاوید،اینکر حمزہ علی ،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری،حمید الحسن،مزمل اقبال ہاشمی،ملک وقاص سعید، طہ منیب،ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان و دیگر نے خطاب کیا،
مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف نے میڈیا ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بہت ضروری ہے، میڈیا میں مرچ مصالحہ سے ریٹنگ بڑھ سکتی ہے لیکن قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی،سوشل میڈیا کے ذریعے ہی مایوسی میں ڈوبے نوجوان کو امید دلانی ہے قوم کو شعور دینا ہے۔ اسے ہجوم نہیں ایک قوم کی شکل دینا ہے، سینئر صحافی دلاور چودھری نے شرکا سے خطاب کرتے کہا کہ علم مومن کی میراث ہے۔ایک اچھا انسان بننے، معاشرے کو متوازن بنانے کے لیے کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔کم علمی کی وجہ سے قوم تذبذب کا شکار رہتی ہے۔ اچھے فیصلے کے لیے ذہن وسیع ہونا چاہیے اور وسیع ذہن کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ سینئر صحافی شاہد نذیر چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈیجیٹل میڈیانے دنیا ہی بدل دی ہے، موبائل ایک انڈسٹری ہے ، اسی موبائل کی قوت سے غلامی سے آزادی حاصل کرنی ہے۔مسائل کو سوشل میڈیا کی مدد سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ صحافی کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے، ہمیں انداز بدلنے کی ضرورت ہے، پارٹی کے بیانیے کو پالیسی کے مطابق لے کر چلیں ،مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کے لئے بھی تربیتی پروگرام منعقد کروا رہی ہے، اسی سلسلے کو جاری رکھیں گے، میڈیا ورکشاپ کے دوسرے روز اتوار کو شرکا میں سرٹفکیٹ جبکہ مہمانان خصوصی میں شیلڈ تقسیم کی گئیں،
