پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے ایک تفصیلی بیان میں پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور عمران خان کے سیاسی رابطوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ وہ دیگر سیاستدانوں سے بات چیت نہیں کریں گے، اور اس وقت پی ٹی آئی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے، سوائے تین جماعتوں کے۔رؤف حسن نے وضاحت کی کہ محمود خان اچکزئی کو ان تین جماعتوں سے بات چیت کرنے کا خصوصی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ ان جماعتوں میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ ان جماعتوں سے بات چیت کریں اور اگر کوئی حقیقی پیشکش آتی ہے تو اس پر غور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔رؤف حسن نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر سیاسی طاقت کے ساتھ بلواسطہ یا بلاواسطہ رابطے میں ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے خفیہ مذاکرات کے سوال پر کہا کہ محمود خان اچکزئی نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے، اور امید ہے کہ اس سے معاملات میں بہتری آئے گی۔
اس موقع پر رؤف حسن نے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ پارٹی میں یہ تاثر موجود ہے کہ عمران خان کے ملٹری ٹرائل کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آٹھ ستمبر کو ہونے والے جلسے کے بارے میں فیصلہ کیا ہے، جو لازمی طور پر ہوگا۔انہوں نے 22 اگست کو ہونے والے جلسے کو مؤخر کرنے کی وجوہات بھی بیان کیں۔ رؤف حسن کے مطابق، 21 اگست کی رات کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اسٹبلشمنٹ نے رابطہ کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کی موجودگی کی وجہ سے کوئی پُرتشدد واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ نے درخواست کی کہ جلسے کو مؤخر کیا جائے، جس پر پی ٹی آئی نے 8 ستمبر کو جلسے کا این او سی لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اس فیصلے کی منظوری دی، لیکن اس کے بعد کسی اور کے نام پر جلسہ مؤخر کرنے کی صورت میں جھوٹ کا دعویٰ کیا جائے گا۔رؤف حسن نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ 22 اگست کے جلسے کو مؤخر کرنے پر پارٹی کو بہت سی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پارٹی اس وقت مزید رسک نہیں لے سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی ہدایات ہیں کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ابھی روپوش ہیں، وہ اسی حالت میں رہیں۔اس تفصیلی بیان میں رؤف حسن نے پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی، سیاسی روابط، اور پارٹی کے داخلی مسائل پر کھل کر روشنی ڈالی، اور آئندہ کے لائحہ عمل کی وضاحت کی۔
