بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ 13فروری 1905ء میں پیدا ہوئیں ، 1947 سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں ،تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی گورنر خاتون تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔بیگم رعنا ان خواتین سیاستدانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں،جنھوں نے 1940ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا،وہ تحریک پاکستان کی اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں،اور انھوں نے محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا ،اور پاکستان موومنٹ کمپنی کی ذمدار رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھوں نے جناح کی پاکستان موومنٹ کمپنی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور بعد جب ان کے شوہر لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو پاکستان کی خاتون اول بھی بنئیں۔اس حیثیت سے انھوں نے نئے قائم ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئیے پروگرام شروع کئیے ۔خاتون اول کی حیثیت سے انھوں نے 14اگست 1949ء سے 29اکتوبر1951ء انکی مدت منصب رہا ۔انکا پیدائشی نام شیلا تھا،انکی تعلیم لکھنوء یونیورسٹی سے ہوئی۔مذہب اسلام تھا اور شہرئیت برطانوی ہند اور پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مقیم ہوئیں۔لکھنوء یونیورسٹی سے انھوں نے ماسٹر آف سائنس کیا ۔اور پیشہ کے لیحاظ سے ماہر معشیات،سفارت کار،استاد جامعہ،سیاستدان اور فوجی افسر پاکستان میڈیکل کور میں تھیں ۔انکی مادری زبان اردو تھی۔بیگم رعنا لیاقت صاحبہ کے حالات زندگی کچھ یوں تھے ،کہ لکھنوء برطانوی ہندوستان میں 1905ء کو کمونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں،آپکا پیدائیشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ان کے والد ڈینیل پنت متحدہ صوبوں کے سیکٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔کمونی برہمن پنت خاندان نے تقریبا 1871ء میں عیسائیت مزہیب قبول کیا تھا ۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی سکول میں حاصل کی ۔لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات اور عمرانیات کیا ۔کچھ عرصہ استاد رہئیں۔1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی ہوئی ۔
پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم ” آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن ” قائم کی ۔پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور اغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کئیے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں ،1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیر اور سندھ کی گورنر بھی رہیں ۔انکی سوانح عمری پر کچھ روشنی ڈالتے چلیں تو رعنا لیاقت علی خان "دی بیگم ” کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں۔کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا ۔86 سال کی اپنی زندگی میں انھون نے 43سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گزارا ۔انھوں نے نہ صرف آپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اسکا حصہ بھی بنئیں ۔قائد اعظم سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں ۔اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے انکی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے ۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا ۔جہاں آیرین روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا ۔پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں کہ میں تقریبا 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا ۔لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ انکی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مزہب تبدیل کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یعنی حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے ۔اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوع بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتے تھے ۔مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا ۔ لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لئیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور ہمیں سخت ہدائیت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی بھی کوشش نہ کریں ۔میری ماں شوانی نے لکھا تھا ۔۔
” ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی ”
”برلن وال ” کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور انکی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھیں تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے ۔ آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنوء کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔ متعدد اہم مصنف جیسے قرۃالعین حیدر ، عصمت چغتائی ،عطیہ حسین اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں ۔آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب ” اے ڈائنو مو ان سلک” میں لکھتی ہیں وہ جہاں بھی ہوتی تھیں کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ لیکن ان پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ لیاقت علی خان صاحب سے ملاقت کے بارے میں دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنوء یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے ۔آئرین پنت جو لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروخت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان صاحب نے کھولا ۔لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجک رہے تھے ۔اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا ۔دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو آپنے ساتھ لے کر آئیں ۔جواب میں لیاقت علی خان نے کہا ۔۔کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسکو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپکے لیے ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپکے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت انکی یہ درخواست رد نہیں کر پاۓ ۔ لیاقت علی اپنے دوست مرتضی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاخیر کے ساتھ ،بعد میں آئرین اندر پرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسولیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے اسے خط لکھ کر مبارکباد دی ۔جواب میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ جان کر خوشی ہوئی ،آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل قریب ہے ۔اس بار جب میں لکھنوء جاتے ہوۓ دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چاۓ پینا پسند کریں گی ! آئرین نے انکی دعوت قبول کی اور یہیں سے انکی ملاقاتوں کو سلسلہ شروع ہوا ۔اور 16 اپریل 1933ء کو بات شادی تک پہنچ گئی ۔
لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے ۔اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے ۔لیاقت علی کی شادی انکی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی ۔اور انکے بیٹے کا نام ولایت علی خان تھا ۔بہر حال انکی شادی ہوئی اور جامعہ مسجد کے امام نے انکا نکاح پڑھا ۔آئرین نے اسلام قبول کیا اور انکا نام گل رعنا رکھا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی اس وقت سیاسی افق کے ابھرتے ستارے تھے ۔اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی تھے ۔لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی بھی سیکھی تھی پیانو اور طبلہ بجاتے تھے ۔اور گاتے بھی اچھا تھے ۔انکی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے ۔دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور پہننے کا شوق تھاگ اور نہ کپڑوں کا ۔انھیں ایک پرفیوم پسند تھا "جواۓ” جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے ۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے ۔جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا ۔وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں ۔ دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ ۔لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دے دی ۔اور وہ صرف ذاتی استعمال کی چیزیں لے کر پاکستان آۓ تھے ۔اس سامان میں ایک سوٹ کیس ،سیگریٹ لائٹروں سے بھرا ہوا تھا ۔اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگرٹ لائیٹر جمع کرنے کا شوق تھا ۔اگست 1947ء میں لیاقت علی اور انکی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ہوائی اڈے سے کراچی پرواز کی ۔لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور رعنا پہلی خاتون اول قرار پائیں۔لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی کے ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا ۔انکی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا ،کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی ۔لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔کتاب "دی بیگم ” کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائی بھی ، کہ اب میں کیا کروں گی ! کیونکہ لیاقت انکےلئیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ان کی اکاؤنٹ میں محض 300 رپے تھے ۔اور انکا بڑا مسلہ بچوں کی پرورش اور تعلیم تھا ،کچھ لوگوں نے انکی مدد بھی کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان بطور پاکستان کی سفیر :حکومت پاکستان نے انھیں دو ہزار ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیا ۔تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا ۔جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا ۔1949ء میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ۔اور بیرون ملک ہوتے ہوۓ بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں ۔ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا ۔تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ :وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر انکی اچھی گرفت تھی ۔رعنا لیاقت علی نے اپنے سفارت کاری کے فرائض بخوبی انجام دئیے ۔ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ” اورینج ایوارڈ ” سے بھی نوازا ۔اسوقت ہالینڈ کی رانی سے انکی اچھی دوستی ہو گئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیش کش کرتے ہوۓ کہا تم انتہائی سستے دام میں اپنی ایمبیسی کے لئیے اسے خرید لو۔یہ گھر شہر کے درمیان میں اور شاہی محل سے صرف ایک کلو میٹر دور تھا ۔وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے ۔جہاں ہالیند میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے ۔بیگم رعنا سوئزرلینڈ کی سفیر بھی بنیں ۔اور انڈیا کی سابق خارجہ سیکٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں ۔جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونئیر سفیر ہوا کرتے تھے ۔بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب ” نیگوشی ایٹنگ فار انڈیا ” ریزالونگ پرابلم تھرو ڈپلو میسی ” میں لکھا کہ وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں ۔حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمداری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت بھی دی تھی ۔انھوں نے لکھا کہ وہ آتے ہیں بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک دفعہ میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا ۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو ۔
” امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے ہیں کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا ”
سن 1947ء کے پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی خان تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں ۔لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں ۔دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روائیتی کھانے بہت پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو انکی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ” آئی مس الموڑہ ”
رعنا کا ایوب جنرل سے ٹکراؤ :
ڈپلو میسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے بوجود پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ انکے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوۓ ۔اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تہمینہ عزیزلکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر ہیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی 13جون 1990ء کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کر گئیں اور مزار قائد کے احاطے لیاقت علی خان کے پہلو میں مدفون ہیں ۔ بیگم رعنا لیاقت علی کو سب سے بڑے شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ۔ انھیں مادر پاکستان کا خطاب بھی ملا ۔
