Baaghi TV

قائمہ کمیٹی کا اسلام آباد ایئرپورٹ تا پشاورموڑ میٹرو بس کے توسیع منصوبے میں تاخیراوراخراجات میں اضافے کا نوٹس

قائمہ کمیٹی کا اسلام آباد ایئرپورٹ تا پشاورموڑ میٹرو بس کے توسیع منصوبے میں تاخیراور اخراجات میں اضافے کا نوٹس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کی سربراہی میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں نیو اسلام آباد ایئر پورٹ تا پشاور موڑ میٹرو بس کے توسیع منصوبے میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے، وزارت مواصلات اور پلاننگ ڈویژن سے مشترکہ طور پر بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغاشاہ زیب درانی نے کہا کہ ان تین اداروں میں سے کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہے جس کی لاپرواہی کے باعث منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ بریفنگ کے بعد سب کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔

کمیٹی کے اراکین نے بھی منصوبے میں تاخیر کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے کی اونر شپ کا بھی اب تک فیصلہ نہیں ہو سکا اور اس کے اپریشنل ہونے کے بعد مزید انتظامی مسائل پیدا ہونگے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہاکہ یہ انتہائی حساس اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کی تحقیقات انتہائی لازمی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبہ 25.6 کلو میٹر طویل روڈ پر مشتمل ہے جو کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ سے پشاور موٹر تک زیر تعمیر ہے۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو اس منصوبے کی ذمہ داری دی گئی تھی اور کا کل تخمینہ 16.4 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ اگلے ماہ بنیادی انفراسٹرکچر مکمل ہو جائے گا۔تاہم اس کے بھرپور طریقے سے فعال ہونے پر وقت لگے گا اور اس کی دیگر سروسز کی فراہمی ابھی باقی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کیپٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کیلئے قانون سازی کا مسودہ زیر غور ہے اور اس خصوصی قانون سازی کے باعث پرائیوٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی نے سفارشات کا جائزہ لیا جبکہ بلوچستان میں جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں کو بھی زیر غور لایا گیا۔کمیٹی کو توانائی کے متبادل اور قابل تجدید ذرائع کی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 میں متبادل اور قابل تجدید توانائی کی نئی پالیسی بنائی گئی تھی اور اس میں متعلقہ سٹیک ہولڈرز اور صوبائی حکومتوں سے بھی مشاور ت کی گئی تھی۔

قائمہ کمیٹی کو اس پالیسی کے تحت جاری منصوبوں پر تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے مسئلے کو اہم سمجھتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی ایک موزوں فورم ہے جو کہ اس پالیسی کے تحت جاری منصوبوں کو مناسب طریقے سے زیر غور لا سکتا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اس مسئلے کو قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو ریفر کر دیا۔آج کے اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ، فدا محمد، رانا مقبول احمد، اسد اشرف، انجینئر رخسانہ زبیری کے علاوہ سیکرٹری پلاننگ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے

More posts