دنیا اس وقت ایک ایسے معاشی دباؤ سے گزر رہی ہے جہاں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی سے لے کر حکومتوں تک سب کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی بڑی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سپلائی چین کی رکاوٹیں، عالمی سیاسی کشیدگیاں اور خصوصاً روس-یوکرین جنگ شامل ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ان عالمی اثرات کا بوجھ ہر ملک یکساں طور پر برداشت نہیں کرتا۔
یہاں اصل فرق ان ممالک کے درمیان نظر آتا ہے جنہوں نے دہائیوں تک اپنے وسائل پر توجہ دی اور ان ممالک کے درمیان جو مسلسل قرضوں کے سہارے اپنی معیشت چلاتے رہے۔ ترقی یافتہ اور مستحکم معیشتوں والے ممالک نے نہ صرف اپنی مقامی صنعت کو فروغ دیا بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر بھی سرمایہ کاری کی۔ ان کے ٹیکس نظام مضبوط ہیں، کرنسی مستحکم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ درآمدی ایندھن پر کم انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ان ممالک میں نہ حکومتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی ہیں اور نہ ہی عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ یہاں نظامِ حکومت بڑی حد تک قرضوں پر کھڑا ہے، اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بار بار International Monetary Fund جیسے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانا ایک معمول بن چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ان ممالک نے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دی؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے پاس ایک بڑی نوجوان آبادی موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے ناقص منصوبہ بندی، پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان، سیاسی عدم استحکام اور کرپشن جیسے عوامل نے ان وسائل کو طاقت میں بدلنے نہیں دیا۔ ہر آنے والی حکومت قلیل مدتی فائدے کے لیے فیصلے کرتی رہی، جبکہ طویل مدتی اصلاحات کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔
ایک اور بڑا مسئلہ درآمدی معیشت کا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ڈالر مہنگا ہوتا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بجلی مہنگی ہو جاتی ہے اور یوں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
سیاسی عدم استحکام بھی اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ بار بار حکومتوں کی تبدیلی سے پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، اور ادارے مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور اشرافیہ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جو ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے مگر اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے گریز کرتی ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ قرضوں کا یہ سلسلہ کیوں نہیں رکا؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ قرض لینا ایک آسان راستہ ہے۔ یہ وقتی طور پر مسائل کو حل کر دیتا ہے مگر طویل مدت میں معیشت کو ایک ایسے جال میں پھنسا دیتا ہے جسے “ڈیٹ ٹریپ” کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے وسائل کو ترقی دینا ایک مشکل، وقت طلب مگر پائیدار حل ہے، جس کے لیے مضبوط قیادت، مستقل مزاجی اور شفاف نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر عالمی تجربات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جن ممالک نے برآمدات بڑھائیں، توانائی میں خودکفالت حاصل کی، ٹیکس نظام کو بہتر بنایا اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا، وہی آج معاشی طور پر مضبوط ہیں۔ ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس کی واضح مثال ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل ایک علامت ہیں، بیماری نہیں۔ اصل بیماری وہ کمزور معاشی ڈھانچہ ہے جو دہائیوں کی غلط پالیسیوں، قرضوں پر انحصار اور وسائل کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ جب تک پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دیتے، اس وقت تک ہر عالمی بحران ان کے لیے ایک نیا طوفان لے کر آتا رہے گا۔
قرضوں پر چلتی معیشت اور مہنگا ہوتا ایندھن: ایک عالمی اور پاکستانی المیہ۔تجزیہ شہزاد قریشی
