اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان)مدینہ الاولیاء اوچ شریف میں 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر جیسے اہم قومی دن پر افسوسناک اور شرمناک خاموشی دیکھنے میں آئی، جہاں پورا شہر مکمل طور پر لاتعلق اور بے حس نظر آیا۔ نہ کوئی ریلی نکالی گئی، نہ دعائیہ تقریب منعقد ہوئی، نہ ہی کوئی تعلیمی، سماجی یا آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، گویا یومِ کشمیر سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی، پولیس، ہسپتال انتظامیہ، سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریوں سے چشم پوشی اختیار کی۔ ملک کے دیگر شہروں میں جہاں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں، سیمینارز، دعائیہ اجتماعات اور آگاہی مہمات جاری رہیں، وہیں اوچ شریف میں سرکاری مشینری کی نااہلی اور بے حسی نے اس قومی دن کو ایک عام دن بنا کر رکھ دیا۔
انتظامیہ کی جانب سے نہ کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نہ تعلیمی اداروں کو متحرک کیا گیا، نہ مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا اور نہ ہی شہر بھر میں کسی مقام پر بینر یا پلے کارڈ نظر آیا۔ اس صورتحال نے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
شہری اور سماجی حلقوں نے اس رویے کو ’’قومی غیرت کا جنازہ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے اہم قومی دن بھی سرکاری بے حسی کی نذر ہوتے رہے تو نئی نسل میں حب الوطنی، قومی شعور اور کشمیری کاز سے وابستگی کیسے پیدا ہو سکے گی۔
عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کا فوری تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے قومی مواقع پر باضابطہ تقریبات، ریلیوں اور آگاہی مہمات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ اوچ شریف کو قومی سطح پر مزید شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
