Baaghi TV

قرآن: محض ثواب کا ذریعہ یا نصابِ زندگی؟تحریر: عمر افضل

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں رونقیں بڑھ رہی ہیں، دسترخوانوں کی فکر کی جا رہی ہے اور عبادات کا ایک مخصوص شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے، لیکن اس تمام تر چہل پہل کے درمیان ایک سوال ہم سب کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے، کیا ہم اس مہینے کو صرف سحری و افطاری اور تراویح کی رسم تک محدود رکھیں گے، یا اس اصل مقصد کی طرف بھی لوٹیں گے جس کے لیے یہ مہینہ چنا گیا؟ یعنی "نزولِ قرآن”۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو ایک "مقدس تبرک” تو بنا لیا ہے، مگر اسے "نصابِ زندگی” تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہم اسے چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں، خوبصورت ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر گھر کے سب سے اونچے مقام پر رکھ دیتے ہیں، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ قرآن ہمارے دلوں کے قریب نہیں آپاتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللّٰہ کی اس کتاب کے ہم پر کچھ حقوق ہیں، جن میں سے پہلا اور بنیادی حق ‘ایمانِ صادق’ ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایمان ہمیں ورثے میں مل گیا، لیکن شاید اسی "مفت” ملنے والی نعمت نے ہمیں اس کی قدر سے محروم کر دیا۔ ہمارا ایمان اکثر محض ایک رسمی اقرار بن کر رہ گیا ہے۔ جب تک ہمارا یہ یقین پختہ نہیں ہوگا کہ یہ کتاب اللّٰہ کا ہم سے براہِ راست کلام ہے، تب تک ہدایت کے بند دروازے نہیں کھل سکتے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہماری زندگی کا ہر فیصلہ قرآن کے تابع ہوتا، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار کر قرآن سے صرف دعائیں مانگنے کا رشتہ رکھتے ہیں۔

اسی تعلق کا دوسرا اہم پہلو ‘تلاوت’ ہے، مگر یہاں ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے تو مہنگے ٹیوٹرز اور بہترین اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جب اللّٰہ کا کلام پڑھنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے غلط لہجے اور ٹوٹے پھٹے لفظوں میں پڑھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ کیا خالقِ کائنات کا کلام اس لائق نہیں کہ اسے بہترین انداز (تجوید) سے پڑھا جائے؟ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں ضائع کر دیتے ہیں، مگر قرآن کے لیے ہمارے پاس چند منٹ نہیں ہوتے۔ اس رمضان ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنی تلاوت کو درست کریں گے، کیونکہ یہ کلام جتنا عظیم ہے، اسے اتنے ہی احسن طریقے سے پڑھا جانا چاہیے۔

تلاوت سے آگے بڑھیں تو سب سے بڑی محرومی ‘فہمِ قرآن’ ہے؛ ہم عربی پڑھ تو لیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہم سے کہہ کیا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کا نسخہ تو بار بار پڑھے، لیکن اس میں لکھی دوا استعمال نہ کرے۔ قرآن محض ثواب کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے نازل ہوا تھا۔ جب ہم ترجمہ اور تفسیر پڑھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ براہِ راست ہمارے دکھوں کا مداوا کر رہا ہے اور ہماری الجھنوں کے حل پیش کر رہا ہے۔ فہمِ قرآن کے بغیر گزرا ہوا رمضان ایک پیاسا رمضان ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ ‘عمل’ کا فقدان ہے۔ ہم مسجد میں قرآن سن کر روتے ہیں، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی وہی جھوٹ، وہی ناپ تول میں کمی، وہی سود خور ذہنیت اور وہی بددیانتی ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف سود اور جھوٹ سے رک جائیں تو ہمارے آدھے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ قرآن پر عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی قوم کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر عزت کے تخت پر بٹھاتا ہے۔

قرآن کا آخری اور اہم ترین حق اس کے پیغام کی ‘تبلیغ’ یعنی اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ یہ کتنی بڑی خود غرضی ہے کہ ہدایت کا جو نور ہمیں ملا، اسے ہم صرف اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ اللّٰہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے”۔ یہاں سکھانے سے مراد صرف قاعدہ پڑھانا نہیں، بلکہ قرآن کی آفاقی تعلیمات کو اپنے عمل اور زبان سے معاشرے میں عام کرنا ہے۔ اگر ہم خاموش بیٹھ گئے تو کل روزِ قیامت ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے اللّٰہ کے بندوں کو اللّٰہ کے پیغام سے کیوں بے خبر رکھا؟ یہ پیغام صرف لفظوں سے نہیں، ہمارے کردار سے پھیلنا چاہیے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے برسوں پہلے ہماری اسی حالتِ زار کا نقشہ کھینچا تھا:
؎ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

یہ رمضان ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم قرآن کے ان پانچوں حقوق کو کماحقہ ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آئیے عزم کریں کہ اس بار قرآن صرف طاقوں کی زینت نہیں بنے گا، بلکہ ہمارے سینوں میں اترے گا اور ہمارے عمل سے جھلکے۔ خدارا! اس کتابِ ہدایت کو محض ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، اسے جینے کا ڈھنگ سمجھ کر تھام لیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں قرآن مجید کا صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

More posts