سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔
آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟
راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔
قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔
یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔
کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔
تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟
ذمہ داران سے سوال
یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
(وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔
حل کیا ہے؟
پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
