کتاب سے اسکرین تک: سنجیدہ قوم کا تماشائی بننے کا سفر
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان کے سیاسی گلیاروں میں کبھی وقار، سنجیدگی اور فکری بلوغت کی روایت ہوا کرتی تھی۔ پارلیمنٹ کے ایوان ہوں یا سیاسی جلسے، وہاں دلائل کی گونج سنائی دیتی تھی، نظریات کی جنگ لڑی جاتی تھی اور قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ ہوتا تھا۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست اب سنجیدہ عمل کے بجائے ایک تماشہ بن چکی ہے، جہاں اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی “ٹک ٹاکر کلچر” کا شکار ہو چکے ہیں۔
سیاست دانوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ قومی پالیسی، معیشت، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ مختصر ویڈیوز، جذباتی بیانات اور سستی شہرت حاصل کرنے کی دوڑ نے سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ رجحان صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان بھر کی ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس افسران بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ جن کا بنیادی فریضہ عوامی خدمت، قانون کی عملداری اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہے، وہ بھی سوشل میڈیا پر “ٹک ٹاکر” بننے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سنجیدہ فکر اور علمی ماحول دم توڑتا جا رہا ہے۔ وہ لائبریریاں جو کبھی علم کا مرکز ہوا کرتی تھیں، آج ویران پڑی ہیں۔ نوجوان نسل، جو کتابوں سے روشنی حاصل کر سکتی تھی، اب اسکرینوں کی چکاچوند میں کھو چکی ہے۔ مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی سوچ کی جگہ وقتی تفریح اور سطحی معلومات نے لے لی ہے۔
یہ صورتحال صرف ثقافتی زوال نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔ جب ایک معاشرہ سنجیدہ مکالمے سے دور ہو جائے، جب اس کے رہنما مسائل کے حل کے بجائے مقبولیت کے کھیل میں مصروف ہو جائیں، تو پھر ریاستی ترجیحات بھی بکھر جاتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل—مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف—پر توجہ کون دے گا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم اس رجحان کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور سنجیدہ سیاست کو فروغ دیں۔ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو بھی اپنی پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھنا ہوگا۔ اسی طرح معاشرے کو بھی کتاب، علم اور شعور کی طرف واپس آنا ہوگا۔
سیاست محض ویڈیوز اور نعروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اسے تماشہ بنا دیا تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
