پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ ہم کشمیری عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وہ وادی جو کبھی اپنی دلکش فضاؤں، بہتے جھرنوں اور سبز پہاڑوں کے باعث جنتِ نظیر کہلاتی تھی، آج خون اور آنسوؤں کی کہانی سناتی ہے۔
1947 کے خزاں میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، تو اس دن سے کشمیری عوام کی زندگی ایک مسلسل کرب میں ڈھل گئی۔ حقِ خودارادیت کی وہ روشنی جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جھلکتی تھی، آج تک ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا، لیکن کشمیری عوام کی آنکھوں میں آزادی کا خواب اب بھی زندہ ہے۔
بھارت کے ظلم و جبر کی داستان اتنی طویل ہے کہ ہر صفحہ خون سے لکھا گیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنز سے چھین لینا، یہ سب روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ اظہارِ رائے پر ایسی پابندیاں ہیں کہ زبان کھولنے کی سزا قید و بند ہے، اور قلم اٹھانے کی جرات کرنے والوں کے لیے اظہار پر قدغن کی دیواریں کھڑی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی شناخت اور آبادیاتی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی سازش کی۔ لیکن اس سب کے باوجود ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ظلم کے سامنے جھکنا ان کے خون میں نہیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، لیکن عالمی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں دنیا کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ دستک اکثر ان سُن کانوں تک نہیں پہنچتی۔
یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف نعروں اور جلسوں تک محدود ہیں یا واقعی کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں۔ ہمیں ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ ظلم کی سیاہ رات میں امید کی کرن روشن ہو سکے۔
جیسا کہ ایک اور صدا بلند ہوتی ہے:
اندھیروں میں بھی جلتی ہے امید کی شمع
کشمیر کی جدوجہد ہے تاریخ کی نعمت
کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک ایسی شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جب تک کہ آزادی کی صبح ان کی دھرتی پر طلوع نہ ہو جائے۔
