سانگھڑ (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سانگھڑ کے علاقے چوٹیاری کے قریب پیش آنے والا واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ہے، جہاں ایک معصوم بچی پر مبینہ طور پر بااثر وڈیرے کے بیٹے وزیر راجڑ کی جانب سے درندگی، شدید تشدد اور زبان کاٹنے جیسے ہولناک الزامات سامنے آئے ہیں۔ واقعے کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ریاستی اداروں کی پراسرار خاموشی ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بااثر ہونا قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس بن چکا ہے؟ کیا ایک معصوم بچی کا خون اور چیخیں بھی طاقتوروں کے سامنے بے معنی ہیں؟
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ پولیس مبینہ طور پر اثر و رسوخ کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف، غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے، جبکہ سماجی اور انسانی حقوق کے حلقے اسے کھلا انسانی المیہ قرار دے رہے ہیں۔
عوامی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور اعلیٰ عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس دلخراش واقعے کا فوری ازخود نوٹس لیا جائے، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مظلوم بچی کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ظلم پر خاموش نہ رہیں، کیونکہ آج اگر ایک بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آواز نہ اٹھی تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
