Baaghi TV

سعودیہ میں ایرانی حملے میں امریکی طیارہ تباہ،امریکی دفاعی صلاحیتوں کو شدید دھچکا

E-3 Sentry طیارے کی تباہی کے بعد امریکی فضائی نگرانی کی صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، ماہرین کے مطابق ایران کے سعودی عرب میں واقع فوجی اڈے پر حملے نے امریکہ کے دفاعی نظام کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملے میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود امریکی فضائیہ کا جدید AWACS طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ طیارے کی سامنے آنے والی تصاویر میں اس کا پچھلا حصہ ٹوٹا ہوا جبکہ اس کا مخصوص گھومنے والا ریڈار ڈوم زمین پر گرا ہوا دکھائی دیتا ہے، جو اس سسٹم کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ طیارہ امریکی فضائی نگرانی اور جنگی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی فوج کے سابق کرنل اور عسکری تجزیہ کار کیڈرک کا کہنا ہے کہ اس طیارے کی تباہی امریکہ کی نگرانی کی صلاحیتوں کے لیے "بڑا دھچکا” ہے۔انہوں نے کہا کہ AWACS طیارہ نہ صرف دشمن کی نقل و حرکت کو دور سے مانیٹر کرتا ہے بلکہ جنگی طیاروں کی رہنمائی، اہداف کی نشاندہی اور انہیں دشمن کے میزائلوں اور طیاروں سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق AWACS سسٹم ایک وقت میں تقریباً 120,000 مربع میل کے علاقے کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے، جو زمین سے لے کر فضائی حدود کی بالائی سطح تک پھیلا ہوتا ہے۔ امریکی فضائیہ کئی دہائیوں سے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہی ہے اور اس کے پاس اس وقت 17 ایسے طیاروں کا بیڑا موجود ہے، جو اس کی جنگی برتری کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔دوسری جانب امریکہ نے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔یاد رہے کہ اس حملے میں کم از کم 10 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے تھے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

More posts