انسان کو عطا ہونے والی بے شمار نعمتوں میں اگر کوئی نعمت خاموشی سے انسان کی زندگی کو سہارا دیتی ہے تو وہ صحت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کی موجودگی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب جسم تندرست ہو تو دن مختصر اور راتیں پرسکون لگتی ہیں، لیکن جونہی بخار، درد یا کمزوری دستک دیتی ہے، انسان کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بخار، بلڈ پریشر کا اتار چڑھاؤ، جسم میں درد، کمزوری، بے چینی، ڈاکٹر کے چکر اور دواؤں کا بوجھ،یہ سب تکلیفیں بظاہر بیماری لگتی ہیں، مگر درحقیقت یہ اللہ کی طرف سے ایک پیغام ہوتی ہیں۔ کبھی یہ آزمائش ہوتی ہیں، کبھی تنبیہ، اور کبھی انسان کو اس کی غفلت کا احساس دلانے کا ذریعہ۔اللہ تعالیٰ بندے کو فوراً نہیں پکڑتا، پہلے اشاروں میں سمجھاتا ہے۔ جسم کی تکلیف دراصل روح کو جھنجھوڑنے کا نام ہے کہ “اپنے آپ کو پہچانو، اپنی نعمتوں کی قدر کرو، اور اپنی زندگی کو سنوارو۔”
بیماری میں ڈاکٹر کی دوائیں ضروری ہیں، مگر یہ یاد رکھنا بھی لازم ہے کہ شفا دوا میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔ دوا تو صرف ایک وسیلہ ہے۔ کتنے ہی مریض ایک ہی دوا کھاتے ہیں، مگر شفا کسی کو ملتی ہے اور کسی کو نہیں،کیونکہ شفا دینے والا صرف رب ہے۔اسی لیے دوا کے ساتھ دعا اور شکر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ بیماری انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، اور عاجزی بندے کو رب کے قریب لے جاتی ہے۔صحت ہو تو عبادت میں دل لگتا ہے،محنت آسان لگتی ہے،رزق کے دروازے کھلتے ہیں،رشتے نبھانا سہل ہو جاتا ہے،چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑی لگتی ہیں،لیکن جب صحت نہ ہو تو دولت بے معنی لگتی ہے،کامیابی بوجھ بن جاتی ہے،ہنسی تکلیف دیتی ہے،اور زندگی رک سی جاتی ہے،اسی لیے کہا گیا ہے کہ “صحت مند انسان ہزار خواہشیں رکھتا ہے، بیمار انسان صرف ایک۔”
بدقسمتی سے ہم صحت کو ہمیشہ موجود رہنے والی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ نہ کھانے پینے کا خیال، نہ آرام کی پرواہ، نہ ذہنی سکون اور جب جسم جواب دینے لگتا ہے تو شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ اصل شکر یہ ہے کہ متوازن غذا اختیار کی جائے،وقت پر آرام کیا جائے،ذہنی دباؤ کم رکھا جائے،اللہ کی یاد کو زندگی کا حصہ بنایا جائے،کیونکہ جو انسان اپنی صحت کی حفاظت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی نعمت کی حفاظت کرتا ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہرا سچ ہے کہ صحت ہوگی تو زندگی آسانی سے چلے گی۔ مشکلات آئیں گی، مگر ان کا سامنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ آزمائشیں ہوں گی، مگر حوصلہ باقی رہے گا۔صحت انسان کو یہ ہمت دیتی ہے کہ وہ گرے تو اٹھ سکے، روئے تو سنبھل سکے، اور ہارے تو پھر کوشش کر سکے۔
صحت اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں عطا ہو رہی ہے۔ بیماری آئے تو شکوہ نہیں، سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔ یہ وقت خود کو پہچاننے، سنورنے اور رب کی طرف لوٹنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔آئیے صحت کو معمولی نہ سمجھیں،اس کی قدر کریں،اور ہر دن یہ دعا کریں “یا اللہ! ہمیں صحتِ کاملہ عطا فرما، اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین”
