Baaghi TV

شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

الیگزے شیشہ بنانے والا تھا، مگر یہ پیشہ اس کی پہلی پسند نہیں تھا۔ حالات نے اسے "شیشہ گر” بنا دیا تھا۔ شہر کے پرانے حصے میں تنگ گلیوں والے بازار میں اس کی دکان تھی، ایک عام سی دکان جسے لوگ "شیشہ گھر” کہتے تھے۔ شفاف دیواریں، قطار اندر قطار آئینے، اور ان کے بیچوں بیچ ایک خاموش آدمی جو برسوں سے دوسروں کو خود سے ملواتا آ رہا تھا۔
صبح سے شام تک لوگ آتے۔ کوئی اپنے چہرے کی جھریاں دیکھتا، کوئی اپنی آنکھوں میں جھانک کر چونکتا، کوئی شیشے پر انگلی رکھ کر مسکرا دیتا جیسے اسے اپنا آپ مل گیا ہو۔ شیشہ گر سب کو دیکھتا، سب کی بات سنتا، مگر خود بولتا کم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیشہ بولتا ہے، آدمی نہیں۔ آدمی اگر بولنے لگے تو شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔

اس کی زندگی اسی ترتیب سے گزرتی رہی۔ دن، مہینے، ،سال سب ایک جیسے۔ اس نے بڑے بڑے لوگوں کے لیے آئینے بنائے تھے۔ ایسے آئینے جن میں سچ چھپ نہیں سکتا تھا۔ کئی بار لوگ ناراض ہو کر لوٹے، کئی بار تعریف کر کے۔ مگر کسی نے کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا دیکھتا ہے، یا دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

رات کو جب دکان بند ہو جاتی تو الیگزے دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ شیشوں کے درمیان۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ایک ہجوم میں اکیلا بیٹھا ہو۔ ہر طرف عکس تھے، مگر ان عکسوں میں اس کی اپنی صورت کہیں گم ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید اس نے خود کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ شاید اسے ڈر تھا، اس بات کا کہ اگر اس نے خود کو دیکھا تو سوال اٹھیں گے، اور سوال زندگی کا سکون چھین لیتے ہیں۔

وہ یاد کرنے لگا کہ کبھی اس نے بھی کچھ اور بننے کا خواب دیکھا تھا۔ شاید کسی اور ہنر کی خواہش تھی، یا محض یہ آرزو کہ وہ بھی کسی دن بے فکر ہو کر اپنے آپ سے بات کر سکے۔ مگر یہ سب خیال ذمہ داریوں کے شور میں دب گئے تھے۔ گھر، وقت، ضرورت، سب نے مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ انسان کم اور مشین زیادہ بن گیا تھا۔

ایک دن ایک لڑکا دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، انے والی زندگی کے خواب تھے، اس نے بے دھڑک شیشے میں خود کو دیکھنا شروع کیا۔ اس کم سن لڑکے نے خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے اپنے جسم میں جو نقص نظر آیا اس نے فوری طور پر اس کو درست کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ "الیگزے” اس کی جرأت پر حیران تھا لڑکا شیشوں میں اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد اس سے گویا ہوا؛

کیا آپ نے کبھی خود کو ان شیشوں میں دیکھا ہے؟
یہ سوال غیر متوقع تھا الیگزے چونکا۔ برسوں میں پہلی بار کسی نے آئینے کے پار نہیں، آئینہ بنانے والے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سچ بول دیا:
“نہیں۔”
لڑکا مسکرایا، جیسے اسے یہی جواب درکار تھا۔ اس نے کہا:
"پھر شاید یہ شیشے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔”
وہ لڑکا چلا گیا، مگر اس کا جملہ دکان میں رہ گیا۔ اس رات الیگزے حسبِ معمول بیٹھا رہا، مگر اس بار خاموشی مختلف تھی۔ اس نے ایک شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ پہلی بار۔ کوئی وہم نہیں، کوئی خوف نہیں، بس ایک تھکا ہوا انسان، جس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر جواب کی خواہش بھی تھی۔
اگلے دن اس نے دکان کی ترتیب بدل دی۔ ایک آئینے کا رخ اس نے اپنی طرف رکھ لیا، ایسا نہیں کہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، بلکہ ایسا کہ وہ خود ہر دن اس کے سامنے سے گزرے۔ وہ جان گیا تھا کہ شیشہ گر ہونا برا نہیں، برا یہ ہے کہ آدمی خود کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

اب بھی لوگ آتے ہیں، شیشے دیکھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دکان اب بھی شیشہ گر کی ہی کہلاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب وہاں ایک انسان بھی رہتا ہے،جو دوسروں کو سچ دکھاتے ہوئے، خود کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
اور یہی شاید کسی بھی شیشہ گر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ۔۔۔۔

میں نے شیشہ گر ہوتے ہوئے صرف دوسروں کو شیشہ دکھایا میں عیب جو بن گیا لوگوں کے عیب لوگوں کو دکھانے لگا اور لوگوں نے میرے آئینے میں خود کو دیکھا، میرے بنائے گئے شیشوں کی زبانی سن سن کر اپنے نقص دور کرنے شروع کر دئیے۔ اب میرے سامنے شفاف چہرے، شفاف جسم تھے لیکن آج جب وہی شیشہ میرے سامنے آیا تو مجھے اپنے چہرے پہ داغ دھبے، جھریاں، زخم خوردہ جلد، تھکی خشک آنکھیں اترا ہوا چہرہ نظر ا رہا ہے۔ میں نے اتنے سال تک خود کو کیوں نہ دیکھا۔ اپنی تھکن اپنے بدنمائی دور کیوں نہیں کی ۔۔۔۔؟
شیشہ گر ہوں ۔۔۔جب میں نے اپنے لیے کوئی شیشہ نہیں بنایا تو میں
"شیشہ گر” کیسے تھا ۔۔۔۔۔۔؟
میں صرف عیب جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوچتے ہوئے اس نے سامنے شیشے میں دیکھا۔
الیگزے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔

More posts