Baaghi TV

کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

qureshi

پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وقار ،اقدار کا جنازہ نکال دیا،الزام تراشی جمہورٹھہری
ہر ریاست میں زمینی حقائق پر فیصلے ہوتے ہیں ،پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں
سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت،معیشت کی مضبوطی اور بہترین خارجہ پالیسی ہونا چاہیے
مشکلات کے باوجود مملکت خداداد قائم،پاک فوج نے ہمیشہ دوام بخشا،خون سے آبیاری کی
تجزیہ،شہزاد قریشی
سیاست یا الزام تراشی؟پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خطرناک روش پر گامزن ہے، جہاں دلیل، کارکردگی اور عوامی خدمت کی جگہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا چلن عام ہو چکا ہے، کوئی یہودی ایجنٹ ہےتوکوئی بھارتی،یہ وہ زبان ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں، افسوس کہ اس روش نے قومی سیاست کو تماشا بنا دیا ہے،یہ طرزِ سیاست نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے، پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے اپنے مفادات، ترجیحات اور عالمی ذمہ داریاں ہیں،بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہر ریاست کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں، پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، ریاستی فیصلوں کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا دراصل اپنی ہی ریاست کی کمزوری کا اعلان کرنے کے مترادف ہے،سیاست کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، معیشت کی بہتری، خارجہ محاذ پر مؤثر کردار اور داخلی استحکام ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ذاتی دشمنیوں اور وقتی فائدے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اختلافِ رائے کو غداری اور سیاسی مقابلے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ریاست دونوں کو ہو رہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر آج پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم ہے تو اس کے پیچھے پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی قربانیاں، استقامت اور ذمہ دارانہ کردار شامل ہے،ان اداروں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کو سہارا دیا،سیاسی قیادت اکثر باہمی لڑائیوں میں الجھی رہی، قوم اب اس تماشے سے اکتا چکی ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہو گی،روزگار کیسے بڑھے گا، تعلیم اور صحت کے شعبے کیسے بہتر ہوں گے، اور پاکستان عالمی برادری میں ایک باوقار اور مضبوط کردار کیسے ادا کرے گا۔

’’ایجنٹ‘‘ کے نعروں سے معیشت سنبھلتی ہے نہ ریاست مضبوط ہوتی ہے،وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، الزام تراشی ترک کریں، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، اگر سیاست کا معیار یہی رہا تو تاریخ سخت سوال کرے گی کہ جب ملک کو سمت کی ضرورت تھی،تب رہنما تماشے میں مصروف کیوں تھے،پاکستان کو نعروں کی نہیں، وژن کی ضرورت ہے

More posts