Baaghi TV

سندھ حکومت کا شیخ رشید کو مولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے شیخ رشید کو مولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کر دیا

سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے کہا اپوزیشن کے جلسوں میں کورونا بڑھ سکتا ہے اور دہشتگردی ہوسکتی ہے،شیخ رشید کے بیان کے بعد دہشت گردی کا واقعہ ہوا،ان کوشامل تفتیش کیاجائے ،

سعید غنی کا کہنا تھا کہ مولانا عادل کے بیٹے نے سیکیورٹی سے متعلق بات کی تھی،تسلیم کرتاہوں مولاناعادل کو بروقت سیکیورٹی نہیں دی گئی،وزیراعلیٰ سندھ کے پاس یہ اختیارنہیں کہ وہ کسی کوسیکیورٹی دیں،سیاسی اورمذہبی رہنماوَں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کااختیار حکومت کے پاس ہوناچاہے،

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ ایک اورمذہبی رہنماکو8ماہ کی جدوجہد کےبعد سیکیورٹی دلوائی،سیکیورٹی دینے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ تھا،سیکیورٹی اسسٹمنٹ کمیٹی میں مختلف اداروں کے لوگ شامل ہیں،کمیٹی نہ ہوتی تو ایک گھنٹے میں مولانا عادل کو سیکیورٹی فراہم کردیتے،مولانا عادل پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششوں کیخلاف کام کررہے تھے،کمیٹی میں ایک ادارےکا شخص کہتا کہ فلاں کو سیکیورٹی ملنی چاہیے دوسرے کا کہتا ہے نہیں ملنی چاہیے، تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کرپارہے،

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے شاہ فیصل میں نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر کے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان کو ڈرائیور سمیت قتل کر دیا تھا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ہسپتال پہنچنے سے قبل مولانا عادل دم توڑ چکے تھے، انہیں گردن اور پیٹ میں گولیاں لگیں۔ پسماندگان میں مولانا مفتی محمد انس عادل، مولانا عمیر، مولانا زبیر، مولانا حسن، ایک بیٹی اور ایک بیوہ جب کہ دو بھائی مولانا عبیداللہ خالد اور عبدالرحمن کو سوگوار چھوڑا ہے

شیخ رشید نے اپوزیشن جلسوں میں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کر دیا

More posts