تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔
بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے
جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔
