Baaghi TV

آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

دنیا کی سب سے حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں سے اس اہم راستے کے تحفظ اور کھلے رکھنے کے لیے بھرپور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کیا ہے۔ یہ شکوہ محض ایک بیان نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں۔ کچھ یورپی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی عسکری مہم جوئی سے گریز چاہتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور داخلی سیاسی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے—نہ مکمل لاتعلقی، نہ اندھا ساتھ۔

یہ اختلاف دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر اپنی اصل روح برقرار رکھے گا یا بدلتے عالمی حالات میں اس کے اندر ترجیحات کی نئی درجہ بندی ہوگی؟ امریکہ کی نظر میں آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، مگر یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سفارتکاری اور استحکام کا بھی ہے۔

مستقبل قریب میں تین ممکنہ راستے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اول، محدود اور علامتی تعاون جس سے اتحاد بھی برقرار رہے اور براہِ راست تصادم سے بھی بچا جا سکے۔ دوم، نیٹو کے اندر واضح تقسیم، جہاں چند ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر فاصلے پر رہیں۔ سوم، ایک وسیع تر سفارتی حل جس میں علاقائی طاقتوں کو شامل کر کے کشیدگی کم کی جائے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا مغرب ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے پائے گا یا یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھے گا؟ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ عالمی اتحاد دباؤ میں کس حد تک متحد رہ سکتے ہیں۔

More posts