Baaghi TV

آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے: ایرانی پاسداران انقلاب

iran

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے۔

امریکی وزیر توانائی Chris Wright نے کہاہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گی ،دوسری جانب جہازوں کو تحفظ دینےکے ٹرمپ کے بیان پر ایرانی پاسداران نے چیلنج کردیا ایرانی پاسداران نے کہا کہ ٹرمپ ابھی تک ہرمز کھولنے کے لیے جہاز نہ بھیج سکے، ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے، ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ کچھ بڑا ظاہر ہی نہیں کیا۔

ادھر کویتی بندرگاہ کے قریب دھماکے سے کارگو ٹینکر سے تیل سمندر میں رسنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ اس دھماکے میں عملہ محفوظ ہے-

کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوری ، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: 5 روز میں 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں 33 کلو میٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی تین کلو میٹر ہے جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔

مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی راستے سے جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے ، دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8 ممالک ایران، عراق ، کویت، سعود ی عرب بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے جبکہ جاپان یہاں سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ اور امریکی حملوں کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرے گا، وہ بارودی سرنگیں بچھانے کے علاوہ آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل اور جنگی کشتیاں تعینات کر سکتا ہے، نتیجہ یہ کہ تیل کا بحران پیدا ہو گا اور قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک اوپر جا سکتی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایران کے لیے ایک چوک پوائنٹ ہی نہیں بلکہ دنیا کی لائف لائن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آبی گرز گاہ کی بندش کے نتائج ایران کے لیے خوفناک ہوں گے۔

More posts