سپریم کورٹ آف پاکستان نے زنا بالجبر کے ایک مقدمے میں ملوث ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کر دی ہے اور اس دوران اہم آبزرویشن دی کہ ملزم پر جتنا سنگین الزام ہے، اتنی ہی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے دلائل دیے کہ ملزم الزام سے مکمل انکار کر رہا ہے۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہر مقدمہ ریپ کا ہی نہیں ہوتا اور ایسے تمام واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو جرم ہوگا، اسی کے مطابق سزا دی جائے گی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے وضاحت کی کہ الزام مدعی کو ثابت کرنا ہوتا ہے، ملزم پر نہیں۔ صرف لڑکی کی گواہی کی بنیاد پر ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
دریں اثنا جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ جب خاتون نے خود ریپ تسلیم کیا ہے تو اور کون سے ثبوت درکار ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشہ نہیں بنائے گا۔
سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منظور کی
