Baaghi TV

تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

qureshi

تحفظِ آئین یا تحفظِ اقتدار؟ ایک بنیادی تضاد پاکستان میں آج کل “تحفظِ آئین” ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے۔ جلسوں میں، بیانات میں اور ٹاک شوز میں آئین کی بالادستی کا شور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ جو لوگ آج آئین کے محافظ بنے کھڑے ہیں، وہ خود ماضی میں اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے تو اُس وقت انہیں آئین کیوں یاد نہ آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آئین کو سب سے زیادہ نقصان انہی ادوار میں پہنچا جب سیاسی قوتیں اقتدار میں تھیں۔ آئین کبھی ذاتی مفاد کے لیے موڑا گیا، کبھی خاموشی اختیار کر لی گئی، اور کبھی “مصلحت” کے نام پر اس کی خلاف ورزی کو نظرانداز کیا گیا۔ اقتدار کے مزے لیتے ہوئے آئینی اصولوں پر سمجھوتے معمول بنے رہے۔ جب وسائل، اختیارات اور طاقت میسر تھی تو آئین محض ایک دستاویز بن کر رہ گیا؛ مگر جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے گیا، وہی آئین یکدم مقدس کتاب بن گیا۔ یہ طرزِ عمل دراصل اصول پسندی نہیں بلکہ سیاسی سہولت کاری ہے، جس میں آئین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے—کبھی ڈھال کے طور پر اور کبھی تلوار کے طور پر۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج کون آئین کی بات کر رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اقتدار میں رہتے ہوئے بھی آئین پر کھڑا رہا؟

اگر ماضی میں آئین کو مضبوط کیا جاتا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھا جاتا اور ذاتی اقتدار کو آئینی تقاضوں پر قربان کیا جاتا، تو آج “تحفظِ آئین” کے نعرے کی شاید اتنی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ قوم کو اب نعروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ آئین کا اصل محافظ وہ ہے جو اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، ہر حال میں آئین کی بالادستی تسلیم کرے۔ بصورتِ دیگر یہ سوالیہ نشان مزید گہرا ہوتا جائے گا کہ آئین واقعی محترم ہے یا صرف اقتدار چھن جانے کے بعد یاد آنے والی ایک سیاسی دستاویز۔

More posts