Baaghi TV

تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔

More posts