Baaghi TV

ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

qureshi

دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

More posts