ٹھٹھہ (بلاول سموں) ٹھٹھہ شہر کے مین گٹر اور سیم نالوں کا زہریلا اور گندا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑے جانے کے باعث شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ زرعی زمینیں اور فصلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔
شہر کے سیاسی و سماجی رہنما جی ڈی اے کے شاہنواز بروہی نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گھار مسان شاخ میں ٹھٹھہ شہر کے گٹروں اور سیم نالوں کا زہریلا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی شاخ کے پانی کو ٹھٹھہ اور مکلی کے رہائشی پینے اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر اس میں آلودہ پانی شامل ہونے سے انسانی صحت اور جانوروں کی زندگی دونوں شدید خطرے میں ہیں۔
شاہنواز بروہی نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر گھار مسان شاخ سے گندا پانی نکال کر صاف پانی چھوڑے تاکہ ممکنہ آلودگی سے انسانی جانوں اور فصلوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی موجودہ خاموشی ناقابل قبول ہے اور شہریوں کی زندگیوں اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ سڑکوں پر نکل کر اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔ احتجاجیوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور شہر کے مکینوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ماہرین صحت بھی شہریوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ آلودہ پانی پینے سے مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس میں ہیضہ، ڈائریا، اور دیگر وائرل انفیکشن شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر پانی کے معیار کی جانچ کی جائے اور شہریوں کو صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
