(پاکستانیوں کے لیے ایک چشم کشا حقیقت)
میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت پر تخصص رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں
اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا سرد جنگ کے دور کی سب سے اہم خفیہ مداخلتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایران کی سیاسی سمت کو بدل دیا، محمد رضا شاہ پہلوی کے تحت بادشاہت کو مضبوط کیا اور مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات میں عدم اعتماد کی ایسی میراث چھوڑ دی جو آج تک محسوس کی جاتی ہے۔
مصدق کا عروج: قوم پرستی اور تیل کی خودمختاری
1940 کی دہائی کے آخر اور 1950 کی دہائی کے آغاز میں ایران کی تیل کی صنعت پر عملاً برطانیہ کے زیرِ کنٹرول اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC) کا قبضہ تھا، جسے بعد میں بی پی (BP) کا نام دیا گیا۔1951 سے پہلے ایران کے تیل کی پیداوار اور منافع کا تقریباً 85 فیصد حصہ برطانوی مفادات کے قبضے میں تھا، جبکہ ایران کو اس آمدنی کا نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔
یہ عدم توازن ایرانی قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا نعرہ بن گیا۔
محمد مصدق، جو ایک بااثر اور کرشماتی سیاسی رہنما تھے اور جنہیں پارلیمنٹ کی مضبوط حمایت حاصل تھی، اقتصادی خودمختاری اور قومی وقار کی تحریک کی علامت بن کر سامنے آئے۔1951 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام نے ایرانی عوام میں زبردست جوش پیدا کیا لیکن برطانیہ کو شدید غصہ دلایا۔
برطانوی حکومت نے اس کے جواب میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، ایرانی تیل کا عالمی بائیکاٹ کروایا اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع کر دی۔ان دباؤ کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہونے لگی، مگر مصدق اپنے ملک میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر مقبول رہے۔
سرد جنگ کے حساب کتاب اور مغربی خدشات
ابتدائی طور پر برطانیہ نے مصدق کو سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو لندن نے واشنگٹن سے مدد طلب کی۔اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کا خوف مغربی دنیا کو مسلسل پریشان رکھتا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک ملک سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ مصدق کمیونسٹ نہیں تھے، مگر مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ایران کی کمیونسٹ تودہ پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ خدشات، تیل کے مفادات اور جغرافیائی سیاسی حساب کتاب نے مل کر ایک خفیہ مداخلت کی بنیاد رکھ دی۔
آپریشن ایجیکسOperationAjax
(سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی بغاوت)
اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اسے تاریخ میں 1953 کا ایرانی فوجی انقلاب یا آپریشن ایجیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس منصوبے کا مقصد مصدق کو اقتدار سے ہٹانا اور شاہ ایران کی طاقت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
اس منصوبے کے اہم عناصر یہ تھے:
ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا
سیاستدانوں، صحافیوں اور فوجی افسران کو رشوت دینا
پروپیگنڈا کے ذریعے مصدق کو غیر مستحکم اور کمیونسٹ نواز ظاہر کرنا
ایرانی فوج کے بعض حصوں کے ساتھ مل کر اہم سرکاری مقامات پر قبضہ کرنا
ابتدائی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ مصدق کو سازش کی خبر ہو گئی اور شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
تاہم 19 اگست 1953 کو مظاہروں اور فوجی کارروائیوں کی ایک دوسری منظم لہر کامیاب ہو گئی۔ شاہ کے وفادار ٹینکوں اور مسلح دستوں نے مصدق کی رہائش گاہ کو گھیر لیا۔ شدید جھڑپوں کے بعد ان کی حکومت گر گئی۔
شاہ ایران فاتحانہ انداز میں تہران واپس آئے اور ان کی حکمرانی اب بڑی حد تک امریکی حمایت سے جڑی ہوئی تھی۔
مصدق کا انجام
محمد مصدق کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قیدِ تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
رہائی کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سخت نظر بندی میں رکھا گیا، جہاں وہ سیاسی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ رہے اور 1967 میں ان کا انتقال ہو گیا۔
وہ دوبارہ کبھی عوامی عہدے پر واپس نہیں آئے، لیکن ایرانی عوام کی یادداشت میں وہ ایک قومی ہیرو بن گئے—خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت۔
اسٹریٹیجک نتائج
اس بغاوت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے:
بادشاہت کا استحکام:
شاہ کی حکومت مزید آمرانہ ہوتی گئی اور اس نے مغربی حمایت اور خفیہ سکیورٹی اداروں پر انحصار بڑھا دیا۔
مغرب مخالف جذبات:
غیر ملکی مداخلت کے تاثر نے ایرانی معاشرے میں شدید مغرب مخالف جذبات کو جنم دیا، جو بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کی ایک اہم وجہ بنے۔
سرد جنگ کی مثال
آپریشن ایجیکس بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے ایک ماڈل بن گیا۔
کئی مورخین کے مطابق 1953 کی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی مفادات، جغرافیائی سیاست اور خفیہ کارروائیاں مل کر کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔
نتیجہ
محمد مصدق کی کہانی صرف تیل کی نہیں بلکہ خودمختاری، طاقت کی سیاست اور غیر ملکی مداخلت کے دیرپا اثرات کی کہانی ہے۔1953 میں ان کی برطرفی نے ایران کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب بن گئی۔
سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس بغاوت کا سایہ آج بھی علاقائی اتحادوں، اسٹریٹیجک عدم اعتماد اور خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے اخلاقی و سیاسی مباحث میں نمایاں طور پر موجود ہے۔
