انوار الحق کاکڑ 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کےآٹھویں نگراں وزیر اعظم رہے ،انوار الحق کاکڑ کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کیلئے ان کا نام شہباز شریف نے دیا تھا اور شہباز شریف کن کے آدمی ہیں آج اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔ نگران وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے ذریعے دیا جانا تھا اور راجہ ریاض نے صادق سنجرانی سمیت 2 قریبی ساتھیوں کے نام دئیے تھے جبکہ شہباز شریف نے دوسری ملاقات میں راجہ ریاض کو انوارالحق کاکڑ کے نام کی پرچی دیکر کہا تھا کہ نام تجویز کریں، انوارالحق کاکڑ کے علاوہ شہباز شریف نے راجہ ریاض کو کوئی اور نام دیا ہی نہیں تھا، اب آپ کو واضح ہو جانا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کتنے اہم ہیں اور کن کے اہم ہیں۔
چوبیس جنوری 2026 کو انوار الحق کاکڑ نے ایک سخت بیان دیا جو کہ ان کا اپنا تجزیہ یا موقف نہیں بلکہ انہی اہم لوگوں کا پیغام تھا جنہوں نے نگران وزیر اعظم بنوایا تھا، کاکڑ صاحب نے نرم لہجے میں گرم بات کر کے بتایا کہ ٹرمپ کے غزہ پیس پلان میں شامل ہونا حکومت کا فیصلہ ہے کل کو اس کے نتائج بھی حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے، کاکڑ صاحب کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے ان لوگوں کیلئے جو آج ٹرمپ اور امریکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے امریکہ کی مخالفت کر کے ایٹمی حملے کر دئیے تو جنگ نیوز کی شہہ سرخی تھی کہ پاکستان کی امریکہ کو جھنڈی۔آج کے منظر نامے کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ دشمن ملک کو یہ موقع نہ مل جائے کہ اپنے اخبارات میں شہ سرخی لگائیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطی کو جھنڈی ۔ معذرت کہ ساتھ کہ عامر خان کی فلم پی کے کا یہ ڈائیلاگ تو نہیں کہہ سکتا کہ سرفراز دھوکہ دے گا لیکن یہ بات میں بہت سوچ سمجھ کہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو دھوکہ دے گا۔ اور اسی بات کا خطرہ انوار الحق کاکڑ کو ہے دوسری جانب بڑوں نے انوارالحق کاکڑ کے ذریعے پیغام پہنچا کر خود کو بیچ میں سے نکال دیا ہے کہ یہ فیصلہ تو در اصل حکومت کا ہے مقتدرہ کا نہیں۔ کل جب اللہ نہ کرے بُرا وقت آئے گا تو بڑے بیچ میں سے نکل جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے والوں کا نعرہ واپس آ جائے گا اور عمران خان کی طرح کہہ رہے ہوں گہ ہمیں استعمال کیا گیا تھا۔
انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاست کی نگری میں احسان کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ہی کامیابی کا راز ہے کیو نکہ وہ کہتے ہیں ہو جا تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔مجھے کبھی لگتا ہے کہ اُن کو بھی امریکہ کی چالوں کا پتہ ہے لیکن وہ نزلہ کبھی بھی خود پر نہیں آنے دیں گے۔
مسلم ممالک میں امن کے نام پر پچھلے 60 سالوں میں جو اُدھم مچا ہوا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ، امریکہ اور مغرب ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نام پر آئے ، پچھلے چالیس سال سے امن کے نام پر سوا پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی جہاں پچھلے چالیس سال میں جہاں امریکہ نے مداخلت کر کے کہا ہو کہ امن کیلئے ہم آئے ہیں پھر اسی ملک پر قبضہ کر لیا ہو۔ پہلے افغانستان، پھر شام، عراق اور ایران میں آج کچھ جاری ہے سب کے سامنے ہے۔ صر ف غزہ فلسطین میں 62 ہزار سے زائد لوگ شہید اور 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن تب امریکہ اور ان مغربی طاقتوں کو امن یا د نہیں آیا ، آج غزہ بورڈ آف پیس کے نام سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ذاتی کلب بنا چکے ہیں جس میں 60 ہزار بچوں اور خواتین کا قاتل نیتن یاہو بھی شامل ہے۔
الجزیرہ نے پیس بورڈ تقریب کے دن ہی ٹرمپ کے اس ڈھونگ کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں 11 صفحات کے چارٹر میں جس میں8 چیپٹر اور 13 آرٹیکل ہیں ، ایک بار بھی غزہ کا نام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا غزہ امن بورڈ ہے جس میں غزہ ہی شامل نہیں جبکہ ظلم کرنے والا اسرائیل اور اسکا حمایتی امریکہ شامل ہے۔ جس دن بورڈ پر دستخط کیلئے ایک میدان لگا اسی دن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ۔ جابر بادشاہوں اور قانون کو مطلوب مجرموں کا گروہ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو گیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی 8 قرار دادیں امریکہ نے جبکہ 6 اسرائیل نے ویٹو کیں اب وہی امریکہ غزہ میں امن لائے گا، کیسا انصاف اور نظام جبکہ اس کو ماننے والے اندھے، گھونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم آئرلینڈ نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔
دنیا میں یہودی آبادی کل ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ مسلمان دو ارب ہیں۔ یہودی حاکم اور غالب ہیں جبکہ مسلمان محکوم اور مغلوب۔ ایسا کیوں؟ یروشلم پوسٹ جو کہ اسرائیل کا اخبار ہے اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آذربائیجان سے تیل کی درآمد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل ترک بندرگاہ کے ذریعے آذربائیجان سے تیل درآمد کرتا ہے، اسرائیل اپنے ضرورت کا 46% تیل آذربائیجان سے خریدتا ہے ۔میری نظر میں غزہ و فلسطین کو دھوکہ دینے والے سب سے بڑے منافق یہ مسلم ممالک ہیں ۔سب مسلم ملک ساتھ مل گئے اور کافر سمجھے جانے والے ممالک ظلم کے خلاف کھڑا ہونے سے انکاری ہیں۔
جس دن غزہ امن بورڈ پر دستخط ہو رہے تھے اس دن غزہ میں اسرائیل کے حملے سے 11 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں چھ بہنوں کا 17 سالوں کے بعد پیدا ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا شدید سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کونسا امن اور کونسا بورڈ؟ آپ اندازہ کریں صرف وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر شپ، آمرانہ نظام، شاہی حکومتیں، ہابرڈ نظام والا ڈرامہ ہے وہ ہی ٹرمپ کے ساتھ اس بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان اسرائیل،اردن،آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، ویتنام،قازقستان،ارجنٹینا،بیلاروس، مراکش ۔تو کیا فرانس، برطانیہ، اٹلی میں اتنے بڑے غزہ کے حق میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہ لوگ اور حکمران اسرائیل ، امریکہ کی چالوں سے واقف نہیں تھے ؟
کہتے ہیں کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے تو نہیں دینا چاہیے لیکن میں ملک کی محبت میں طاقتوروں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی وقت آپ کا ہے ۔سوچ لیں کہ مستقبل قریب میں یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں ڈیووس میں زبردستی لے جا یا گیا تھا اور ہم مجبور تھے اور اگر مجبور ہیں تو انوارالحق کاکڑ کی بات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور پاکستانی معاشروں میں ماؤں کی عزت کیا ہے یہ لیکچر ہمیں آج سے 78 سال پہلے ایک سیاستدان نے دیا تھا۔ لہذا اگر مجبوری ہے تو بتائیں کہ مجبور کیوں ہوئے اور کس کے کہنے پر ؟ اور اگر اتنے مجبور ہیں کہ زبان پر کچھ نام آتے ہی پھسل جاتی ہے تو پھر آپ سب کو صدر ٹرمپ کے ذاتی کلب میں خوش آمدید۔
نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں
