Baaghi TV

ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

qureshi

دنیا کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور اس موڑ پر سب سے بڑا سوال امریکہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ دنیا اگر آج بھی یہ سمجھے کہ ٹرمپ، اوباما، کلنٹن یا جو بائیڈن کے تسلسل کا نام ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک الگ طرزِ فکر، ایک مختلف سیاسی رویہ اور ایک منفرد پالیسی کا نام ہیں۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی سفارت کاری، اخلاقی دعووں اور عالمی ذمہ داریوں سے زیادہ قومی مفاد، طاقت اور فوری فائدے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ “America First” محض انتخابی جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کے تحت دوست وہی ہے جو فائدہ دے اور معاہدہ وہی قابلِ قبول ہے جو امریکہ کو یکطرفہ برتری دے۔

ٹرمپ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں پرانے اتحاد لمحوں میں کمزور ہو گئے، عالمی معاہدے یک قلمی فیصلوں سے ختم کر دیے گئے اور بین الاقوامی ادارے دباؤ کا شکار رہے۔ نیٹو ہو یا اقوامِ متحدہ، تجارتی معاہدے ہوں یا ماحولیاتی سمجھوتے، ٹرمپ نے ہر چیز کو سودے کی میز پر رکھ دیا۔ ان کی پالیسیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت غیر متوقع پن ہے۔ یہی عنصر عالمی منڈیوں، سفارت خانوں اور طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ کے نزدیک یہ غیر یقینی صورتحال ہی دباؤ کا مؤثر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور مسلم دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ٹرمپ کے عہد میں اصولوں کی زبان کم اور مفادات کی زبان زیادہ سنی جاتی ہے۔ یہاں ہمدردی نہیں، طاقت کا توازن بولتا ہے۔ یہاں اپیلیں نہیں، سودے ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو نہیں بلکہ ٹرمپ کو سمجھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ ٹرمپ کے امریکہ میں پالیسی مستقل نہیں، مگر مفاد مستقل ہے۔ جو اس مفاد کو پڑھ لے، وہی خود کو عالمی بساط پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جذبات سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے نبھائے جائیں۔

More posts